بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
تین مختصر آیات کی قراءت کرنے والے امام کے پیچھے نماز کاحکم
سوال
اگر کوئی امام نماز میں آخری دس سورتوں کی تلاوت نہیں کرتا ہو،اس کی بجائے وہ قرآن کریم کی دوسری تین مختصر آیات سے قراءت کرے اور یہ اس کا معمول ہو ،نیزمقتدیوں کے مطالبہ پر بھی آخری سورتوں کی قراءت نہ کرے ، شرعاً ایسے امام کی پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ امام اور منفرد پر سنت، نفل اور وتر کی ہر رکعت میں اور فرض نمازوں کی ابتدائی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سی بھی سورت پڑھنا واجب ہے، چاہے جتنی بھی مختصر سورت ہو (جیسے سورہ کوثر)، اسی طرح تین مختصر آیتیں (مثلاً: {ثُمَّ نَظَرَ (21) ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ (22) ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ (23)} [المدثر: 21 - 23]) یا ایک دو بڑی آیتیں جو کم از کم تین مختصر آیات کے برابر ہوں، کے پڑھنے سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔البتہ صرف واجب قراءت پر اکتفا نہ کریں بلکہ سنت قراءت کو مدِنظر رکھتے ہوئے نماز پڑھائے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ قراءت اتنی طویل نہ ہو جو قوم پر بوجھ بن سکے کیونکہ نبی علیہ السلام کا ارشادہےکہ ’’ جب کوئی شخص (امام) لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے تخفیف کرنا چاہیے کیونکہ مقتدیوں میں کمزور ، بیمار اور بوڑھے سب ہی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی اپنی نماز پڑھے تو جس قدر چاہے طول دے ‘‘۔
صورت مسئولہ کے مطابق امام چونکہ تین آیات کی تلاوت کرتا ہےتو اس سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑھتا، نیز شرعاً امام پر لازم نہیں کہ وہ خواہ مخواہ آخری دس صورتوں کی تلاوت کریں گا، البتہ اگر امام قوم کے مطالبہ کی رعایت رکھے تو بہتر ہوگا۔
عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إذا صلى أحدكم للناس فليخفف، فإنه منهم الضعيف والسقيم والكبير، وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ما شاء).(صحيح البخاري، باب: إذا صلى لنفسه فليطول ما شاء، رقم الحديث:708، ج:1، ص:458)
(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، وهو ثلاثة آيات قصار، نحو (ثم نظر) (المدثر: 12) (ثم عبس وبسر) (المدثر: 22) (ثم أدبر واستكبر) (المدثر: 32) وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا.ذكره الحلبي (في الاولين من الفرض) وهل يكره في الاخريين؟ المختار لا (و) في (جميع) ركعات (النفل) لان كل شفع منه صلاة (و) كل (الوتر) احتياطا. (الدر المختار على صدر رد المحتار، باب: صلاة الخوف، ج:1، ص:64)