بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مخصوص قوم کے لیے قبرستان وقف کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ واقف کا مخصوص قوم کے لیے قبرستان وقف کرناشرعاًدرست ہے یا نہیں؟

جواب

            فقہائے کرام نے وقف کرنے والے کی پابندی کونص کی پابندی کی طرح قرار دیا ہےیعنی جس طرح شارع کے نصوص پر عمل کرنا واجب ہے،اسی طرح وقف کے نفاذ میں واقف کی شرائط کی رعایت بھی ضروری ہے،اس لیے کہ وہ اس مال کا مالک ہے،لہٰذا وہ جس طرح بھی چاہےاپنے مال کو خرچ کرسکتاہے،خود ہی مصارف بھی متعین کرسکتا ہے،جائز شرطیں بھی لگاسکتا ہے،اپنی ذات اور خاندان کی رعایت بھی کرسکتا ہے،لہٰذااس کی جو بھی شرط شریعت کے مخالف نہ ہو وہ معتبر ہوگی۔

                صورت مسئولہ میں واقف کا مخصوص قوم کے لیے قبرستان وقف کرنا درست ہے،شرعاًاس میں کوئی قباحت نہیں۔

 

واذا قال أرضی صدقۃ موقوفۃ علی بنی فلان،علی أن أفضل من شئت منھم،کان ذالک جائزا ویکون لہ أن یفضل من شاء۔(الفتاوی الھندیۃ،ج:2،ص:378)

إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وھو مالک، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء،۔۔۔ شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به۔(رد المحتار علی الدر المختار،مطلب فی نقل الکتب من محلھا،ج:6،ص:559)


فتویٰ نمبر : 4972/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور