بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
کورونا کی وجہ سے حج پر نہ جانے سے فرضیت کا سقوط
سوال
ایک آدمی نے کوروناسے پہلے حج کے لیےبینک میں رقم جمع کیا لیکن حج آنے سے پہلے ہی حج پر پابندی لگ گئی تھی اور وہ حج پر نہ جاسکا اب اس کی وہ رقم توابھی تک بینک میں جمع ہے لیکن حج آٹھ لاکھ کا ہوگیا ہے اور اس کے پاس مزید پیسے بھی نہیں ہیں اب اس صورت میں اس پرحج فرض ہے یا نہیں؟
جواب
شریعت نے حج کی فرضیت کے لیے استطاعت کو شرط قرار دیا ہے ، اور استطاعت سے مراد محض مال کی فراہمی نہیں بلکہ غیر مکی کے لیے اس کے ساتھ ساتھ عملی طور پر سواری وغیرہ پر قادر ہونا بھی اس میں داخل ہے جب تک سواری میسر نہ ہوسکے تب تک آدمی صاحب استطاعت نہیں کہلاتا ، موجودہ حالات میں حج اخراجات فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر ویزہ ملنا بھی استطاعت میں داخل ہے لہذا اپنی طرف سے حج درخواست دینے کے بعد جب کورونا جیسی وبا کی وجہ سے اس کا جانا ممکن نہ ہوا تو ایسا شخص سواری پر قادر شمار نہیں ہوگا ۔لہذا اگر اگلے سال حج کے ایام داخلہ کےوقت میں بینک كے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے موجودہ حج اخراجات کے لیے کافی نہ ہو تو ایسی صورت میں جب تک دوبارہ حج کے اخراجات کی رقم فراہم نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر حج فرض نہیں ہے ۔البتہ اگر اس شخص کو کسی زمانے میں حج ادا کرنے کی قدرت حاصل ہوگئی تھی لیکن استطاعت کےباوجود حج ادا نہیں کیا تھا اور بعد میں استطاعت نہ رہا یااستطاعت رکھنے کے باوجودکسی رکاوٹ سے حج پر نہ جاسکا تو اس کے ذمہ فرض حج باقی ہوگا۔
وإنما فسر النبي - صلى الله عليه وسلم - الاستطاعة بالزاد، والراحلة لكونهما من الأسباب الموصلة إلى الحج لا لاقتصار الاستطاعة عليهما.(ألا ترى) : أنه إذا كان بينه، وبين مكة بحر زاخر لا سفينة ثمة، أو عدو حائل يحول بينه، وبين الوصول إلى البيت لا يجب عليه الحج مع وجود الزاد، والراحلة فثبت أن تخصيص الزاد، والراحلة ليس لاقتصار الشرط عليهما بل للتنبيه على أسباب الإمكان۔(بدائع الصنائع،كتاب الحج ،فصل في شرائط فرضيته،ج:3،ص:51)
لو ملك ما به الاستطاعة ۔۔۔ فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر الحج في ذمته دينا عليه (الفتاوی الهندية، کتاب المناسک،الباب الاول فی تفسیر الحج۔۔۔،ج:1،ص:280)
السادس: الاستطاعة وهي القدرة علي زاد يليق بحاله ولو لمكي ملكا لابالاباحة وعلي راحلة مختصة به لغير مكي ومن حولها بالملك اوالاجارة لا بالاباحة اوالاعارة ۔(غنيةالناسك، ص: 17)