بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کے الفاظ کا دل میں خیال آنا


سوال

اگر کوئی شخص کوئی کام نہ کرنا چاہے اور اس کے دل میں کلما قسم کا سوچ ہو مگر وہ منہ سے صرف اسطرح الفاظ کہے کہ اگر میں یہ کام کروں تو اس جیسا مطلب اشارہ کلما قسم کی طرف ہو پر منہ سے کلما قسم کے الفاظ کہ جب کبھی میں شادی کرو تو میری بیوی کو طلاق وغیرہ کے الفاظ ادا نہیں کئے گئے ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

       انسان کے دل و دماغ میں مختلف قسم کے خیالات و تصورات آتے رہتے ہیں ، جب تک زبان سے تلفظ نہ کیا ہو تو مخض دل کے  خیالات پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا ۔

       صورت مسئولہ میں جب تک زبان سےطلاق کےالفاظ پر تلفظ نہ پایاجائے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ 

 

(و)أدنی(الجهر سماع غیرہ ، و ) أدنٰی (المخافة إسماع نفسه،ويجري ذلك) المذكور (في كل ما يتعلق بنطق، كتسمية على ذبيحة ووجوب سجدة تلاوة وعتاق وطلاق واستثناء(رد المحتار على الدر المختار کتاب الصلوٰۃ،ج1،ص 535)


فتویٰ نمبر : 6411/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور