بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق كو اپنے كسی فعل کے ساتھ معلق کرنا


سوال

 میں نے چار سال پہلےطلاق لیے ہیں وہ بھی تین مرتبہ تین تین طلاق طلاق اس چیز پر لیے ہیں کہ میں ایک گناہ میں مبتلا تھا میں موبائل پرفحش فلمیں دیکھتاتھااورپھرمیں اس سےبہت تنگ آگیامیں نے مسجد جاکر توبہ کرلی اورتوبہ میں نو طلاق اٹھائےمیں نےکہاکہ آئندہ یہ نہیں دیکھوں گااپنے موبائل پریعنی سرچ نہیں کرونگااگرویسے سامنےآگئے وہ اس کے  علاوہ ہیں پھر میں نے ایک ایپ ڈاونلوڈکیافیسبوک جیسااس میں لوگوں نےشیئرکیےتھےوہ دیکھے ہیں اورکسی دوسرےکاموبائل تھامیرےپاس اس میں دیکھے  ہیں پھرکسی عالم کوفون پریہ قصہ سنایاانھوں نےکہاکہ آپ نے یہ الفاظ جہر سے کہیں ہیں یا خفیہ مجھےیادنہیں تھاوہ پہلے ہواتھاانہوں نےکہایہ واقع نہیں ہوئے ہیں اسکےبعداپنےموبائل پربھی دیکھ لیےہیں اللہ مجھے ہدایت کرے،اب میں کیاکرو ں؟

جواب

          طلاق کو جب کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے  تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی  ہے۔

          صورت مسئولہ  کے مطابق اگر  سائل  نے نو طلاق اس بات پر اٹھا لئے تھے کہ اگرآئندہ  میں نےفحش فلمیں دیکھیں  تو میری بیوی کو نو طلاق ہیں اوران الفاظ پر  زبان سے تلفظ بھی کیا تھاپھر اس نے دوبارہ فحش فلمیں دیکھیں تو شرط پائے  جانے کی وجہ سے اس کی بیوی تین طلاق واقع ہونے کے ساتھ  مطلقہ مغلظہ ہو گئی ہے تا ہم  اگر صرف دل میں  نیت کی تھی اور زبان سے اس پر تلفظ نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)

(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا۔(الدر المختار على صدرردالمحتار،ج:3،ص:355)
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية۔۔۔وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الطلاق،ج:4،ص:431)      


فتویٰ نمبر : 6403/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور