بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"ميرمن طلاق مال " كے الفاظ كا حكم


سوال

میں نے ایک مرتبہ اپنے بیوی سے پشتو زبان میں (میرمن طلاق مال) کا  لفظ بولا تھا موبائل پر۔تو پھر میرے  دل میں شک تھا  کہ اس سے  طلاق واقع ہوئی  یا نہیں تو  پھر میں نے  کئی  مفتیوں سے پوچھا  بعض کہتے ہیں اس سے طلاق رجعی واقع ہوئی ہے اور بعض کہتے ہیں  کہ اس سے  طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ صحیح صورت حال سے آگاہ فرمائیں؟

جواب

            واضح رہے کہ لفظ طلاق سےطلاق اس وقت واقع ہوتی ہے،جب شوہر لفظا یا معنا اس کی نسبت بیوی کی طرف کرے،ورنہ طلاق واقع  نہیں ہوتی۔پختون معاشرےکے عرف میں "طلاق مال"کا لفظ بعض لوگوں کا تکیہ کلام بن چکا ہے،مشاہدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا اس لفظ سے طلاق واقع کرنے کاوہم وگمان بھی نہیں ہوتا اور اس لفظ کے استعمال کے وقت نہ تو وہ اس کی نسبت لفظی طور پر بیوی کی طرف کرتے ہیں اور نہ ہی معنوی طور پر،اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر "میرمن طلاق مال "کے الفاظ  بطور تکیہ کلام استعمال کیےہو تو اس  سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے  لیکن اگر  یہ کلمات طلاق کی نیت سے استعمال کی  جائے تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

 

إن الصريح لا يحتاج إلي النية ولكن لابد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة الطلاق إليها عالما بمعناه،ولم يصرفه إلی ما يحتمله۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الصريح،ج:4،ص:461)


فتویٰ نمبر : 6425/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور