بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زکوٰۃ کی رقم سے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنا
سوال
جس ہسپتال میں زکوٰۃ کی رقم آتی ہوتوکیاڈاکٹر کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کر درست ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ فلاحی اداروں کے پاس جمع شدہ زکوٰۃ کی رقم امانت ہوتی ہے، جسے مستحقِ زکوٰۃ افراد (فقیر،مسکین)تک مالکانہ حقوق کے ساتھ پہنچانا اس ادارے کے ذمہ داران پر شرعًا لازم ہوتا ہے، اور جس طرح زکوٰۃ کی رقم مستحق شخص کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، اسی طرح زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق ِ زکوٰۃ کوبلاعوض دینا بھی ضروری ہے، لہٰذا ڈاکٹر کو اس کی خدمات کی فیس (اجرت)میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اس کی بجائے یوں کیا جائے کہ جو مریض واقعتًا مستحق ِزکوٰۃ ہو تو اسے زکوٰۃ کی رقم کامالک بناکر دے دی جائے، وہ مالک بن جانے کے بعد اس رقم کو ڈاکٹر کی فیس کی مد میں یا ہسپتال سے فراہم کردہ دواؤں کی خریداری کی مد میں ادا کردے، اس سے حاصل شدہ رقم کو ڈاکٹر کی فیس ،تنخواہ اور ہسپتال کے دیگر مصارف میں صرف کیا جاسکتاہے۔
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير؛ لعدم قبضه، وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة؛ لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلاً عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم.(بدائع الصنائع ،كتاب الزكاة، فصل رکن الزکاة،ج:2،ص39)