بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
کفالت اکاونٹ میں رقم موجود ہونےکے باوجود زکوٰۃ لینا
سوال
میں سرکاری سکول میں استاد ہوں میری تنخواہ42000 ہے ، اس میں سے 2000 روپے میزان بینک میں ماہانہ کٹوتی کفالت کی مد میں ہوتی ہے جو کہ میں نے خود کروائی تھی جو دس سال مدت کے لیے ہے، دس سال بعد مجهے یہ رقم ملے گی۔ جمع شدہ رقم تنخواہ کے علاؤہ ایک علیحدہ اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے جس کی کوئی بھی چیک بک بھی نہیں ہوتی تاکہ بوقت ضرورت اس رقم کو نکال سکے مگر اس رقم کو صرف آنلائن چیک کر سکتے ہیں کہ اس میں کتنے پیسے جمع ہیں اب میرے اس کفالہ اکاؤنٹ میں ایک لاکھ سے زائد رقم ہے جو دس سالہ مدت پوری ہونے پر ملے گی۔ میری ایک بیٹی پیدائشی بیمار ہے جس کے علاج پر خاطر خواہ رقم خرچ ہوتی ہے اور مذکورہ بالا تنخواہ میں میرا مہینے کا خرچہ پورا نھیں ہوتابلکہ اکثر قرض لینا پڑتا ہے اب میری بہن مجھے زکوٰۃ دینا چاہتی ہے تو کیا میں بہن سے زکوٰۃ وصول کر سکتا ہوں ؟
جواب
واضح رہے کہ جودین کسی مال کے بدلے میں نہ ہو جیسے : مہر ، بدل خلع یا صلح عن القصاص،تو اس دین میں اس وقت تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی، جب تک نصاب کے بقدر دین کی وصولی کے بعد اس پر ایک مکمل سال نہ گزرجائے۔
صورت مسؤلہ میں جب اس رقم پر قبضہ نہیں کیا ہے اور نہ اس کو بوقت ضرورت نکال سکتے ہیں تو یہ ملکیت میں داخل نہیں اور یہ" دین ضعیف "کے حکم میں ہے چنانچہ وصولی سے پہلےیہ پیسے نصاب میں شمار نہ ہوں گے ۔لہذا اگر اس رقم کے علاوہ صاحب نصاب نہیں ہے تو اپنی بہن سے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔
وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. (الفتاوى الهنديه، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:175)
ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة. (الفتاوی الهنديه، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:172)
والـمـراد بكونه حوليا أن يتم الحول عليه، وهو في ملكه لقوله. (البحر الرائق ، كتاب الزكاة، تحت قوله:( وملك نصاب حولي)، ج:2، ص:356)
ویجوز دفع الزکاة إلی من سوی الوالدین والمولودین من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغیرهم لانقطاع منافع الأملاک بینهم. (بدائع الصنائع، فصل حولان الحول هل هو من شرائط أداء الزكاة، ج:2، ص:50)