بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گناه لوگوں كو بتانے كے بعد توبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے زنا کیا اور لاعلمی اور حدیث معلوم نہ ہونے کی وجہ سےاپنے دوستوں کو زنا کے بارے میں بتا دیا۔ اب اس نے صدق دل سے توبہ کر لیا ہے اورکبھی گناہ کی طرف راغب نہیں ہوا ،لیکن اس نے ایک حدیث سنی ہے جس سے وہ شخص مایوس ہوا ہےاور اس کا خیال ہے کہ اللہ اس کو کبھی معاف نہیں کرے گا،اس حدیث کا مفہوم یہ ہےكہ " میرےتمام امت کے گناہ معاف ہوں گے مگر وہ شخص جو اعلانیہ گناہ کرتا ہو اور اعلانیہ گناہ میں سے یہ بھی ہے کہ رات کو ایک آدمی کوئی کام کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈالے پھر صبح وہ آدمی کہے کہ اے فلاں میں نے رات کو فلاں فلاں کام کیے رات کو اللہ نے اس پر پردہ ڈالااور اس نے اللہ کے ڈالے ہوئے پردے کو کھول دیا"تو كيا اس آدمی کو کبھی اللہ معاف نہیں کرےگا؟

جواب

            واضح رہے کہ زنا بہت بڑا گناہ ہے ، قرآن وحدیث میں زنا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں اور جب اللہ  کسی پر پردہ ڈالے توپھر خود اس راز کو فاش کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، لیکن اگر سچے دل سے توبہ کی جائے اور آئندہ اس گناہ کے نہ کرنے کا پختہ عزم کیاجائے تو اللہ تعالی ان گناہوں کو معاف کردیتے ہیں۔ حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی علانیہ گناہ کرے یاگناہوں کالوگوں کے سامنے  تذکرہ کرے اور اس سے توبہ نہ کرے اس کو اللہ معاف نہیں کرتا ،جب کہ توبہ کرنے سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے چنانچہ قرآن و احادیث میں توبہ سے سارے گناہوں کی معافی ذکر ہے ۔ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ :"گناہ سے (صدق دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک وصاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو"۔

 

مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا (سورة النساء، آيت:110)

عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التائب من الذنب، كمن لا ذنب له. (سنن ابن ماجه، باب ذكر التوبة، رقم الحدیث: 4250، ص: 320)

بل المعنى: كل أمتي لا يؤاخذون أو لا يعاقبون عقابا شديدا إلا المجاهرون ( مرقاة المفاتيح، كتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغيبة والشتم، ج:7، ص:3034)

(إلا المجاهرين) هم الذين جاهروا بمعاصيهم وأظهروها وكشفوا ما ستر الله تعالى عليهم فيتحدثون بها لغير ضرورة ولا حاجة. (شرح النووي علي مسلم،كتاب الزهد، باب النهي عن هتك الإنسان ستر نفسه،ج:11، ص:7267)


فتویٰ نمبر : 4978/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور