بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
یکطرفہ عدالتی فسخ نکاح کا حکم
سوال
مسماۃ کوثر جبین نے مسمیٰ غلام نذیر کے ساتھ باقاعدہ نکاح کیا تھا البتہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شوہر نے رویہ بدلا اور بیوی پر مسلسل ظلم و ستم شروع کیا نان نفقہ بھی نہیں دیتا رہا یہاں تک کہ بیوی کو رسی سے باندھنے تک نوبت پہنچی ،چنانچہ شوہر کے ظلم و ستم کی وجہ سے اور مہر و نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے بالآخر عدالت میں نکاح ختم کرنے کا کیس دائر کیا گیا ،وہاں سے باقاعدہ بار بار شوہر کو اطلاع دی گئی کہ وہ کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے لیے حاضر ہو جائے ، لیکن وہ حاضر نہ ہوا۔عدالت نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تنسیخ نکاح کی یکطرفہ ڈگری جاری کردی جو سوال کے ساتھ لف ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلہ کی رو سے شرعا بھی نکاح ختم ہے یا نہیں ؟نیز اس فیصلے کے بعد کیا یہ خاتون کسی اور شخص سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں ؟
جواب
میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے اور اس کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے جس کی وجہ سے عورت کےلیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تاہم اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں یہ شوہر متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار ہے بشرطیکہ یہ عورت عز ت وآبروکا لحاظ رکھتے ہوئے کسب معاش پر قدرت نہ رکھتی ہو یا نفقہ پیدا کرنے کی قدرت تو ہو لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے کی صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے کا غالب گمان ہو ایسی صورت میں عدالت مکمل تحقیق کرے اگر عورت شوہر کے ظلم وستم کو ثابت کرے تو عدالت شوہر کو حکم دے کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقہ سے آباد کرویا طلاق دے دو اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،اگر انکار کرے یا عدالت کا سمن ملنے کے باوجود بغیر کسی عذر کے عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہے تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے اور یہ تنسیخ شرعا معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔
"وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلابأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به"۔(الهداية،باب الخلع ،ج:2، ص:404)
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم"۔(الحيلة الناجزة ،ص:133)