بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مصالح مسجد کے لیے وقف شدہ زمین پر دکانیں بنانا


سوال

ہماری مسجد  " گڑ منڈی نیو گرین مارکیٹ" میں واقع ہے، جس کا  برآمدہ  دائیں بائیں وضو خانوں پر مشتمل ہے، اور اسی برآمدہ میں اوپر مدرسہ جانے کے لیے تین مختلف جگہوں پر سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں، جب کہ ہم دوران اعتکاف معتکفین کو اس برآمدہ میں بلاضرورت آنے سے منع بھی کرتے ہیں، اس ظن غالب پر کہ یہ مسجد کی ضروریات میں تو داخل ہے، لیکن خاص نماز کی جگہ کے لیے وقف نہیں، اب مسجد کی نئی تعمیر کا ارادہ ہے، تو کیا اس برآمدے کو ہم کسی اور ضرورت کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟کیونکہ مسجدکمیٹی والے چاہ رہے ہیں،کہ یہاں دکانیں بنا کر مسجد کی باقاعدہ آمدن کا ذریعہ اسی کو بنا دیں۔

جواب

             مسجد شرعی بننے کیلئے تین باتیں ضروری ہیں:(1)زمین مسجد کیلئے وقف ہو۔(2)موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک  یا دوسرے کی  ملک سے  اس طرح علیحدہ  کر دیا ہو  کہ اس کا یا کسی اور کا حق  اس سے متعلق نہ ہو ۔(3)متولی کی اجازت سے اس میں ایک مرتبہ نماز باجماعت ہو چکی ہو ۔اگر یہ تینوں باتیں پائی جائیں ،تو مسجد شرعی کے احکام جاری ہو ں گے ۔لیکن  جو جگہ مسجد کے مصالح کے لیے وقف ہو، اور اس کے لیے استعمال ہوتا ہو، تو مسجد شرعی تام نہ ہونے کی وجہ سے اس کو مسجد کے مصالح کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر  مذکورہ برآمدہ  مسجد شرعی کے لیے وقف نہیں ہے، نیز  یہ جگہ وضو خانوں اور اوپر چھت کے لیے راستوں  پر بھی مشتمل ہے، تو ایسی  صورت میں  مذکورہ برآمدہ کو نئی تعمیر  میں بھی مسجد کے مصالح کے لیے   استعمال کرسکتے ہیں۔

 

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به ۔۔وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلی فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا كما قال محمد رحمه الله تعالى رواية الحسن كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر،ج:2،ص: 408)

و(بقوله جعلته مسجدا ) عند الثاني ( وشرط محمد ) والإمام ( الصلاة فيه )بجماعۃ۔ وقال ابن عابدین تحتہ: قوله ( بجماعة ) لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيء بحسبه ففي المقبرة بدفن واحدوفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا ۔(الدر المختارمع رد المحتار ،كتاب الوقف،مطلب في أحكام المسجدج :6، ص: 545 )


فتویٰ نمبر : 4956/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور