بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
وسوسہ میں مبتلا شخص کی طلاق کاحکم
سوال
بندہ وساوس کی کثرت سے تنگ آگیا ہے اور ذہنی مریض بن چکا ہے کئی ماہر نفسیات سے علاج بھی کیا لیکن کچھ اثر نہ ہوا اور یہ سلسلہ آٹھ ماہ سے جاری ہے مقامی دارالافتاء نے فتوی دیا ہے کہ وسوسے کا مریض اگر منہ سے طلاق کے الفاظ نکالے تب بھی اس کی طلاق واقع نہ ہوگی تو کیا وسوسے کے مریض کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
بیوی پر طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کے الفاظ کا ہونا ضروری ہے اور ان الفاظ کی نسبت بیوی کی طرف ہونا بھی ضروری ہے ۔ اس لیے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں محض دل میں خیال و وسوسہ آجائے تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی اسی طرح غیر ارادی طور سے یا مشکوک طور سے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ سرزد ہو جائیں تو بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ میں اگر بندہ واقعی وسوسوں سے اس حد تک متاثر ہے کہ وسوسوں سے اس کی جان نہیں چھوٹتی اور اس حالت میں غیر ارادی طور پر اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔
(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، مطلب ما يشك في أنه ردة لا يحكم بها، ج:4، ص:224)
أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها۔ (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، مطلب في قول البحر: إن الصريح يحتاج في وقوعه ديانة إلى النية، ج:4، ص:461)
علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق باب صريح الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:2، ص:492)