بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
ذہن میں طلاق کے الفاظ کا خیال آنا
سوال
ایک شخص کوکبھی ہر بات میں طلاق کی سوچ آتی رہتی ہے، البتہ طلاق کے صریح یا کنائی الفاظ زبان سے ادا نہیں کی ہیں اورنہ ہی لکھے ہیں۔ ایک دن اسی نے اپنی بیوی کو واٹس ایپ میسج میں ایک عموجی (کارٹون نما بندہ) کا تصویر بھیجا جو پستول سے گولیاں چلا رہا تھا، میسج بھیجتے وقت دل میں کچھ خیال نہیں تھا،البتہ میسج بھیجنے کے بعداس کو ذہن میں خیال آیا کہ "اس (عموجی) کی ہر گولی کے ساتھ بیوی کو طلاق کے الفاظ"،یہ خیال میسج بھیجنے کے بعد آیا ۔ لیکن بیوی نے میسج کو ان سب کچھ کے بعد دیکھاتھا۔1: کیا اس خیال سے طلاق ہوا ہے یا نہیں؟ طلاق کےنہ صریح الفاظ استعمال کئے ہیں نہ ہی نیت اور ارادہ تھا ؟2:اگر اس خیال کے ساتھ نیت بھی شامل ہوتی تو کیا طلاق واقع ہو جاتی؟3:کیا یہ گولیاں چلاتا بندہ کسی بھی طرح طلاق کے کنائی معنی میں آتا ہے؟
جواب
انسان کے ذہن میں اختیاری اورغیر اختیاری طور پر مختلف قسم کے خیالات اور وسوسے آتے رہتے ہیں ،ان پر شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔طلاق کے وقوع کے لیے زبانی تلفظ ضروری ہے۔محض شک اور وسوسہ کی بنا پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص نےزبان سے نہ طلاق کےصریح الفاظ استعمال کیے ہیں اور نہ ہی کنائی ،لہذامحض وسوسہ اور ذہنی خیال آنے کی وجہ طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ اس خیال کے ساتھ نیت بھی کیوں نہ کی ہو،اس لیے کہ شرعاً وقوع طلاق کے لیے کلمات طلاق کی ادائیگی ضروری ہے۔اسی طرح عموجی (کارٹون نما بندہ)کی تصویر بھیجنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اور نہ گولیاں چلاتا بندہ طلاق کے کنائی معنی میں آتا ہے۔
أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،ركن الطلاق،3/230)