بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مرغی کے پنجے کھانے کا حکم


سوال

آج کل لوگ گھروں میں فارمی مرغیوں کے پنجے پکاتے ہیں شرعاً  یہ پنجے کھانے  درست ہے یا نہیں ؟

جواب

          واضح رہے کہ فقہاء کرام  نے  حلال جانوروں کی  سات اعضاء  کو حرام شمار كیا ہے جس میں  دم مسفوح ، ذکر ،  کپورے، فرج،غدود،مثانہ اور پِتّا شامل ہے۔ اس کے علاوہ باقی سب  اجزاء حلال ہیں۔

         صورتِ مسئولہ کے مطابق  مرغی کے پنجے چونکہ مذکورہ اشیاء میں شامل نہیں ہے اس لیے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم یہ خیال رہے کہ  اس کے ساتھ جو گندگی لگی ہوتی ہے اس  کو خوب صاف کر لیا گيا ہو۔

وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول  فالذي يحرم أكله منه سبعة الدم المسفوح والذكر والأنثيان والقبل والغدة والمثانة والمرارة لقوله عز شأنه ﴿ ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث﴾ [الأعراف:157] وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة۔(بدائع الصنائع،ج5،ص61)


فتویٰ نمبر : 4946/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور