بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
ایک عورت كا دعوائے رضاعت كرنا
سوال
میری بڑی بہن نے میرے دو بیٹوں کو دودھ دیا ہے جس کا وہ اقرار بھی کرتی ہے ، مگر میری والدہ نے کہا تھا کہ اس نے تمہاری بیٹی کو بھی دودھ دیا ہے اور اب وہ فوت ہوچکی ہے، لیکن میری بہن کہتی ہے کہ میں نے اس کو دو دھ نہیں دیا ہے تو کیا اب میری بیٹی کا نکاح میری اس بہن کے بیٹے کے ساتھ جائز ہے؟
جواب
ثبوت رضاعت کے لیے دو عادل آدمیوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے ۔ تا ہم اگر ایک مرد یا عورت کے دعویٰ سے غالب گمان اس کی سچائی کا ہوتا ہو تو نکاح سے پہلے اس پر اعتماد کرتے ہوئے شادی سے احتراز بہتر ہے۔
صورت مسئولہ میں محض ایک عورت کی گواہی کااعتبارنہیں ،لہذا سائل کی لڑکی کا نکاح اس کے بھانجے کے ساتھ جائز ہے۔
ولا يجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبيه كانت، أو أم أحد الزوجين، فإن وقع في قلبة صدق المخبر، فالأفضل أن يتنزه قبل العقد وبعده يسعها المقام معه،حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، ولا يقبل شهادة النسآء وحدهن۔(خلاصة الفتاوى، كتاب النكاح، الفصل الرابع في الرضاع، ج:2،ص:11)