بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
وضوکےبغیراور لیٹ کر موبائل پر قرآن کریم کی تلاوت کرنا
سوال
موبائل پر بغیر وضو کے قرآن مجید کی تلاوت کرنا کیساہے، (2)اسی طرح لیٹ کرتلاوت کرنا کیسا ہے،اس میں بےادبی تو نہیں ہے؟
جواب
واضح رہے کہ موبائل سکرین پر قرآ نی آیات (سافٹ فائل) کے جو نقوش نظر آتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ ایسے حروف موجود نہیں ہوتےجن کے لیے ثبات ودوام اور اپنا کوئی وجود ہو ، بلکہ در حقیقت یہ روشنی کی شعاعیں ہيں جومسلسل سکرین پر پڑتی ہیں اس لیے موبائل میں موجود قرآن کریم مصحف قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ لہذا اگر آیات قرآنی سکرین پر نظر آرہی ہوں تو بلاوضو سکرین کو ہاتھ لگانا جائز ہے تاہم کسی شخص کا یہ ادب قابل تحسین ہے کہ وہ سکرین پرنظر آنے والی آیات کریمہ کو بھی بغیر وضوکے نہ چھوئے ، چنانچہ بعض اکابر کے بارے میں منقول ہے کہ وہ سفید کاغذ کو بھی بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔
2: لیٹنے کی حالت میں موبائل پر قرآن پاک کھول کر تلاوت کرنے میں چونکہ بے ادبی کا احتمال ہے،اس لئے بلا ضرورت ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر کوئی لیٹےہوئےزبانی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے،لیکن اس دوران بھی ادب کے طور پر پاؤں کو سکھیڑ لینا چاہیے۔
قال الله تعالی :﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ّ.(الواقعه:79)
اختلف في ﴿الْمُطَهَّرُونَ﴾ من هم ؟ فقال أنس وسعيد وابن جبير : لا يمس ذلك الكتاب إلا المطهرون من الذنوب...قال قتادة وغيره:﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ من الأحداث والأنجاس۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،ج9،ص225،دارالإحیاءالتراث العربی)
عن عائشة رضي الله عنها، قالت:"كان النبي صلي الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه".(صحیح مسلم، باب ذكر الله تعالى في حال الجنابة وغيرها، رقم الحدیث: 117)
رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح ورفع الصوت عند قراءة القرآن،ج:5،ص:316)