بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شیعہ اور عیسائی کی دعوت قبول کرنا
سوال
کیا عیسائی اور شیعہ کی دعوت قبول کرسکتے ہیں؟ اگر وہ گھر پر کھانا بھیج دیں، تو اس کا کھانا کیسا ہے؟
جواب
بلاشبہ اسلام دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور رواداری کا درس دیتا ہے، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اس بنا پر اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا اکرام کرے، یا اس کو ہدیہ دے دے تو اس کو قبول کرنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں، تاہم اگر دعوت دینے والا غیر مسلم اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) کے علاوہ ہو، تو چونکہ ان کا ذبیحہ شرعا حلال نہیں ہے اس لیے اگران کی دعوت یا گھر بھیجے ہوئے کھانے میں گوشت شامل ہو تو اس سے احتیاط لازم ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر کوئی شیعہ یا عیسائی قرابت داری، محلہ داری یاپڑوسی ہونے کے ناطے کسی مسلمان کا اکرام کرے یا اس کو ہدیہ دے دے تو اس کو قبول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں دین کی بے توقیری یا مستقبل میں اس کی وجہ سے کسی قسم کا دینی نقصان نہ ہو، نیز جو چیز ہدیہ میں دی جارہی ہو وہ بذات خود جائز اور حلال ہو۔
ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة هكذا ذكر محمد رحمه الله تعالى...ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريبا كان أو بعيدا محاربا كان أو ذميا. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج:5،ص:401)