بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مستحق عالمِ دین کو زکوٰۃ دینا
سوال
ایک شخص کےچار بیٹے ہیں ، چاروں عالم دين ہيں ، اور ان چاروں کے پاس جيب ميں پانچ ہزارروپےبھی نہیں ہوتےان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زکوٰۃ اوردیگر صدقات واجبہ جس طرح دوسرے مستحقین کو دے سکتے ہیں ، اسی طرح مستحقِ زکوٰۃ عالم دین کو بھی دے سکتے ہیں بلکہ فقہا نےجاھل کی بجائےمستحق عالم دین کودینا زیادہ بہتر قرار دیاہے۔
صورت ِ مسئولہ کے مطابق اگریہ چاروں عالم دین واقعی مستحق ہوں تو ان کو زکوۃ دینا زیادہ بہترہے۔
قااللہ تعالیٰ﴿إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ﴾(التوبة:60)
التصدق على الفقير العالم أفضل من التصدق على الجاهل كذا في الزاهدي(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:187)