بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
جھوٹ بولنےکےساتھ طلاق معلق کرنا
سوال
اگر ایک بندہ سچ بول رہا ہو، لیکن لوگ اس کی بات کا یقین نہیں کر رہے، اور وہ لوگوں کو یقین دلانے کے لیے لفظ طلاق کا استعمال کرے، صریحاً یا کنایۃ،مثلاً: اپنی طرف سے یہ کہےکہ" اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہو"۔ تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
جب طلاق کوکسی شرط کےساتھ معلق کیاجائے،توشرط پائےجانےکی صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے،اورشرط نہ پائےجانےکی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لہذاصورتِ مسؤلہ کے مطابق اگرکسی نےیہ الفاظ" اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہو"کہےہوں،توسچ بولنےکی صورت میں اس کی بیوی کوطلاق نہ ہوگی،اوراگراس نےجھوٹ بولا،توشرط پائےجانےپراس کی بیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگی،اوراس صورت میں اس کوعدت میں اپنی بیوی کورجوع کرنےکاحق حاصل ہوگا،اورآئندہ کےلیےدوطلاقوں کااختیارحاصل رہےگا۔
إذاأضافه إلی الشرط،وقع عقیب الشرط اتفاقا.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع:في الطلاق بالشرط،ج1ص 420)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى { فأمسكوهن بمعروف } من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.(الھدایة،کتاب الطلاق،باب الرجعة،ج2ص405)