بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رضاعی بہن سے نکاح


سوال

ایک لڑکا ہے ،مثلازید۔جس نے اپنی چچا زاد بہن  مثلا زینب کے ساتھ مل کر زینب کی ماں کا دودھ پیا،جس سے زید اور زینب آپس میں رضاعی بہن بھائی بن گئے۔اب زید کے لیے زینب کی بڑی ہمشیرہ مثلا فاطمہ کے ساتھ نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

         جب کوئی بچہ یا بچی کسی عورت  کا دودھ مدت رضاعت (یعنی دو سال)کے اندر پی لےتو اس عورت کے سب اصول و فروع اس بچے یا بچی پر حرام  ہو جاتے ہیں اورمرضعہ(دودھ پلانے والی عورت)کے بچے اس رضیع (دودھ پینے والے) کےرضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں۔

         صورت مسئولہ کےمطابق اگر زید نے  اپنی چچا زاد  بہن زینب کی ماں کا دودھ پیا ہوتو زینب کی ماں زید کی رضاعی ماں بن گئی ہے،اور  زینب اور فاطمہ دونوں زید کی  رضاعی  بہنیں ہیں  ، لہذافاطمہ کے ساتھ زید کا نکاح جائز نہیں۔

 

يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الرضاع،فصل ما يحرم بالرضاع،2/370)

يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما و فروعهما من النسب و الرضاع جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع،1/343)


فتویٰ نمبر : 6382/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور