بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
توبہ کے بعد پاکدامن لڑکی سے زانی کا نكاح
سوال
توبہ کرنے کے بعد کسی زانی کا نکاح پاکدامن لڑکی سے کرنا جائز ہے یا نہیں ؟َجب کہ سورہ نور میں ہےکہ پاكدامن مومن اور مومنہ سے زانی مرد اور زانیہ عورت کا نکاح حرام ہے کیا ایسا نکاح کرنے سے صحت نکاح پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟
جواب
جمہور فقہائے امت،امام اعظم ابو حنیفہ ؒوما لک وشافعی رحمہم اللہ کےنزدیک زانی مرد یا زانیہ عورت کا نکاح زانی یا زانیہ سے یا پاک دامن مرد یا پاک دامن عورت سے جائز ہے ۔ فقہاکایہ قول بظاہر مفہوم آیت (الزانی لا ینکح الا زانية ۔۔۔الخ) کےخلاف ہےاس لیے مفسرین حضرات نے اس آیت کی تشریح میں یہ ارشادفرمایا ہے کہ جمہور علماء امت کے نزدیک يہ نہی تحریم کے لیے نہیں بلکہ مذمت کے ليے ہے ۔تفسیر روح المعانی میں ہے کہ اس آیت کریمہ میں کوئی حکم شرعی نہیں بلکہ عام مشاہدہ اور تجربہ کی بنیاد پر زنا کے برے اثرات کا ذکر ہے کہ اس سے انسان کا مزاج متاثر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان حلال وحرام کے مابین کوئی فرق نہیں کرتا ،چنانچہ زانی فاسق ہوتا ہے اس لیے پاک دامن نیک عورت سے نکاح کرنے کی طرف اس کی رغبت نہیں ہوتی اور زانیہ بھی فاسقہ ہوتی ہے اس لیے نیک مردوں کو بھی اس سے نکاح کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا،لیکن اگرزانی نےپاک دامن عورت سےنکاح کیاتوشرعانکاح منعقدہوجائےگا۔اسی طرح تفسیر روح المعانی میں یہ بھی لکھاہےکہ آیت میں"فلاینکح" کامعنی ہے" لا یلیق به أن ینکح" یعنی پیشہ ور زانیہ سے نکاح کرنا مومن کی شان کے لائق نہیں اسی طرح پیشہ ور زانی سے نکاح کرنا مومنہ کی شان کے لائق نہیں،اگر چہ ان کےساتھ نکاح شرعاباطل نہیں۔
ان تفاسیرسےمعلوم ہوا کےآیت میں نہی تحریم کےلیے نہیں بلکہ مذمت کے لیے ہے ، علاوہ ازیں تفسیر بغوی میں ہے کہ سعید ابن مسیب اور اہل تفسیر کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ اس آیت کی وجہ سےزانیہ سےنکاح حرام تھا لیکن جب سورہ نساء کی آیت ''وأنکحوا الأیامیٰ منکم''نازل ہوئی تو اس سے حرمت منسوخ ہوگئی،چونکہ زانیہ بھی ایامی (غیر منکوح مردوزن )میں داخل ہے اس لیے اس کے ساتھ نکاح بھی جائز ہوگا۔اور ایسا کرنے سے صحت نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑھتا ، لہٰذا مذکورہ آیت کی وجہ سے پاک دامن خاتون کے ساتھ زانی کے نکاح کو ناجائز سمجھنا درست نہیں ۔
الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلَّا زانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً تقبيح لأمر الزاني أشد تقبيح ببيان أنه بعد أن رضي بالزنا لا يليق به أن ينكح العفيفة المؤمنة۔۔۔ وإنما يليق به أن ينكح زانية هي في ذلك طبقه ليوافق ...الخ( روح المعاني لمحمود الآلوسي،ج : 18،ص:85.84)
وقال النيسابوري: إنه أحسن الوجوه في الآية أن قوله سبحانه: الزاني لا ينكح إلخ حكم مؤسس على الغالب المعتاد جيء به لزجر المؤمنين عن نكاح الزواني بعد زجرهم عن الزنا وذلك أن الفاسق الخبيث الذي من شأنه الزنا والتقبح لا يرغب غالبا في نكاح الصوالح من النساء اللاتي على خلاف صفته وإنما يرغب في فاسقة خبيثة من شكله أو في مشركة والفاسقة الخبيثة المسافحة كذلك لا يرغب في نكاحها الصلحاء من الرجال وينفرون عنها وإنما يرغب فيها من هو من شكلها من الفسقة والمشركين۔
(أو) الموطوءة (بزنى) أي جاز نكاح من رآها تزني، وله وطؤها بلا استبراء، وأما قوله تعالى:﴿والزانية لا ينكحها إلا زان﴾(النور: 3)فمنسوخ بآية﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء﴾(النساء: 3)(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ،ج:4،ص:14)۔
قال سعيد بن المسيب وجماعة: إن حكم الآية منسوخ، فكان نكاح الزانية حراما بهذه الآية فنسخها قوله تعالى: "وأنكحوا الأيامى منكم" فدخلت الزانية في أيامى المسلمين۔ (تفسيرالبغوي لحسين البغوي ،ج: ,3ص: 322)