بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ادائیگی زکوۃمیں قیمتِ فروخت کااعتبار


سوال

زکوۃ کی ادائیگی کےوقت سونےاورچاندی کی کس قیمت کااعتبارہوگا۔(الف)قیمتِ خریدیعنی کوئی آدمی مارکیٹ سےجس قیمت پرسوناچاندی خریدتاہے۔(ب)یاقیمتِ فروخت یعنی جس آدمی کےپاس سوناچاندی ہیں،وہ بازارمیں ان کوجس قیمت پرفروخت کرتاہے،اس قیمت کااعتبارہوگا؟

جواب

            واضح رہےکہ سوناچاندی اوراموالِ تجارت میں زکوۃ کی ادائیگی کےلیے ان کی مالیت معلوم کرنےمیں قیمتِ فروخت کااعتبارہوتاہے،لہذاصورتِ مسؤلہ میں اگرکسی آدمی کےپاس سوناچاندی یادوسرےاموالِ تجارت ہوں،توان اموال کی مارکیٹ میں جوقیمتِ فروخت لگتی ہے،اس کےحساب سےزکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے۔

 

(قوله يقومها)أي المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو كان بعث عند التجارة إلى بلد أخرى لحاجة فحال الحول يعتبر قيمته في ذلك البلد...ثم قول أبي حنيفة فيه:إنه تعتبر القيمةيوم الوجوب وعندهما يوم الأداء.(فتح القدیرعلی الھدایة،کتاب الزکوۃ،فصل فی العروض،ج2ص227)


فتویٰ نمبر : 9039/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور