بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طبیب جاہل سے علاج کرنا


سوال

ایک  شخص حکمت کا کورس کررہا ہے تین سال ہوچکے ایک سال باقی ہے اس دوران یہ شخص لوگوں کا علاج کرتا ہے اور لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے ،ایک دن ایک دوست اس سے اپنی ساس کا علاج کرواتا ہے کچھ دن ان کی طبیعت ٹھیک رہتی ہے پھر اچانک اس کا انتقال ہوجاتا ہے اب میرے اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ آپ کی غلط دوائی کا اثر ہے،مذکورہ دوائی اس بیماری میں نہیں دی جاتی حالانکہ میری نیت اچھی تھی لہذا اب میرے لئے کیا حکم ہے؟

 

جواب

          واضح رہے طبیب جاہل کیلئے علاج کرنا جائز نہیں ہے چاہے مریض یا اس کے ولی کی اجازت سے علاج کرے یا بلا اجازت ، بہر صورت اس کے علاج کی وجہ سے اگر نقصان پہنچے تو پورا ضمان واجب ہوگاتاہم وجوب ضمان اس صورت میں ہے کہ علاج میں طبیب نے اپنا ہاتھ استعمال کیا ہو مثلا دوا خود پلائی ہو یا انجکشن خود لگایا ہو وغیرہ،اگر دوا بنا کر یا لکھ کر مریض کو دی ،مریض نے خود دوائی استعمال کی  تو ضمان واجب نہیں ہوگا۔البتہ تعزیر بہر صورت واجب ہے۔

             صورت مسؤلہ میں چونکہ یہ شخص اب تک زیر تعلیم ہے اور اسے کسی کے علاج کی اجازت نہیں ہے ،اس کے باوجود اس نے مریض کا علاج کیا البتہ  اس نے اپنے ہاتھ سے مریض کو دوائی نہیں پلائی ہے اس لئے اس پر کوئی ضمان واجب نہ ہوگا،تاہم اگر مرحومہ کے اولیاء بذریعہ عدالت کوئی تعزیری سزا دلوانا چاہیں تو شرعا ایسا کرنے کا انہیں حق حاصل ہے ۔مزید یہ کہ توبہ و استغفار بھی بکثرت کرے۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من تطبب، ولا يعلم منه طب، فهو ضامن»(سنن أبي داود:كتاب الديات،باب فيمن تطبب بغير علم فأعنت،ج 4،ص 195 )

(قال عبد العزيز) أي الراوي المذكور (أَمَا إنه ليس بالنَّعْتِ) أي حكم الضمان ليس بالوصف باللسان، وكذا حُكم الكتابة، فإنه إذا وَصَفَ الدواءَ لإنسانٍ فعَمِل بالمريض فهلَك لا يلزم الطبيب الدية (إنما هو) أي حكم الضمان (قَطْعُ العُرُوقِ والبَطُّ) أي الشق (والكَيُّ) بالنار.( بذل المجهود في حل سنن أبي داود: كتاب الديات،باب فيمن تطبب بغير علم فأعنت،ج 12،ص  692)

(من تطبب) : بتشديد الموحدة الأولى أي تعاطى علم الطب وعالج مريضا (ولم يعلم منه طب) : أي معالجة صحيحة غالبة على الخطأ فأخطأ في طبه وأتلف شيئا من المريض (فهو ضامن) : قال بعض علمائنا من الشرح: لأنه تولد من فعله الهلاك وهو متعد فيه، إذ لا يعرف ذلك فتكون جنايته مضمونة على عاقلته. وقال ابن الملك قوله: لم يعلم منه طب أي لم يكن مشهورا به فمات المريض من فعله، فهو ضامن أي تضمن عاقلته الدية اتفاقا ولا قود عليه، لأنه لا يستبد بذلك دون إذن المريض فيكون حكمه حكم الخطأ. وقال الخطابي: لا أعلم خلافا في أن المعالج إذا تعدى فتلف المريض كان ضامنا. وجناية الطبيب عند عامة الفقهاء على العاقلة.( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : كتاب الديات،ج 6 ،ص   2293 )


فتویٰ نمبر : 4970/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور