بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
پاک دامن عورت سے زانی کے نکاح کا حکم
سوال
ایک شخص سے زنا سر زد ہوتا ہے مرد ہو یا عورت پھر اسے غلطی کا احساس ہوتا ہے توبہ کر لیتا ہے تو کیا لازما زانی مرد کو زانیہ بیوی ہی ملے گی اور عورت کو زانی شوہر ہی ملے گا ۔ توبہ کرنے کے بعد ایسے مرد وعورت کے زندگی گزارنے کا اللہ کے ہاں کیا حکم ہو گا اسے مستقبل میں کسی سے نکا ح کرنی چاہیے یا زندگی بھر کنوار ہی گزار دینا بہتر ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ جمہور فقہائے امت رحمھم اللہ کے نزدیک زانی مرد کا نکاح پاک دامن عورت سے اور زانیہ عورت کا نکاح پاک دامن مرد سے جائز ہے ۔چنانچہ یہ تاثر غلط ہے کہ زانی مرد کی قسمت میں پاک دامن عورت سے نکاح اور زانیہ عورت کی قسمت میں پاک دامن مرد سے نکاح نہیں ہوتا۔ان دونوں کو پاک دامن مرد وعورت مل سکتے ہیں۔نیز گناہ سے صدق دل سے توبہ کرنے کے متعلق حدیث میں ارشاد ہے کہ"گناہ سے توبہ کرنے والا بمنزلہ اس شخص کے ہے کہ جس نے سرے سے گناہ کیا ہی نہ ہو"لہذا اگر کسی سے زنا کا ارتکاب ہو چکا ہو تو اسے چاہیے کہ صدق دل سے توبہ تائب ہو جائے اور مستقبل میں پاک دامن رہنے کے لیے نکاح کرے۔
قال اللہ تعالی:الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ۔ ۔ ۔أن يكون مقصد الآية تشنيع الزنا، وتبشيع أمره ۔ ۔ ۔ وأن معناه الوطء أي لا يكون زنىً إلا بزانية، ويفيد أنه زنىً في الجهتين۔ ۔ ۔ في هذه الآية دليل على أن التزوج بالزانية صحيح، وإذا زنت زوجة الرجل لم يفسد النكاح، وإذا زنى الزوج لم يفسد نكاحه مع زوجته۔( التفسير للقرطبي ، ج6،ص167،170)
وعند الائمة الثلاثة نكاح الزاني والزانية صحيح ففي تفسير هذه الاية قال بعضهم معناه الاخبار كما هو ظاهر الصيغةوالمعنى ان الزاني لاجل فسقه لا يرغب غالبا في نكاح الصالحات والزانيةلا يرغب فيها الصلحاء فان المشاكلة علة الالفة والتضام والمخالفة سبب للنفرة والافتراق وكان حق المقابلة ان يقال والزانية لا تنكح الا من زان او مشرك لكن المراد بيان احوال الرجال في الرغبة فيهن لما ذكرنا . . . عند اكثر العلماء عبّر عنه بالتحريم مبالغة يعنى ان المؤمنين لا يفعلون ذلك ويتنزهون عنه تحاميا عن التشبه بالفساق وسوء المقابلة والمعاشرة والطعن في النسب وغير ذلك من المفاسد. (التفسيرللمظهري،ج5:،ص 145)