بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

روزے کی حالت میں انہیلر سپرے کا استعمال


سوال

ایک شخص کو سانس کا مسٔلہ ہے اور انہیلر سپرے استعمال نہ کرنے کی صورت میں اس کو کافی دشواری ہوتی ہے، اس سپرے میں بہت کم ذرات پائے جاتے ہیں، اور اس اسپرے کا تعلق معدے سے نہیں بلکہ  پھیپھڑوں کیساتھ ہے، تو کیا اس سپرے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

             سانس کی تکلیف میں بطورِ علاج انہیلر سپرے استعمال کیا جاتا ہے،انہیلر کے ذریعہ دوا سانس کی نالی سے پھیپھڑوں میں پہنچائی جاتی ہے، لیکن چونکہ حلق میں سانس اور خوراک کی نالیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں، اس لیے دوا کا کچھ حصہ خوراک کی نالی میں بھی پہنچ جاتا ہے، لہذا اس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔

جس مریض کے لیے انہیلر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہو اس کو چاہیے کہ سحری اور افطاری کے وقت اس کے استعمال کا معمول بنائے ، تاہم اگر کسی کا مرض شدید ہو جس کی وجہ سے سحری اور افطاری میں استعمال پر اکتفا نہ کرسکے، تو روزہ نہ رکھے، بعد میں اگر  سال کے کسی بھی موسم میں اس کے لیے روزوں کی قضا ممکن ہوتو قضا کرے،ورنہ  فدیہ ادا کرے۔

 

(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس، ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله. (رد المحتار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم ومالا يفسده، ج:2، ص:395)

(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا. (الدر المختار، كتاب الصوم، فصل في عوارض المبيحة لعدم الصوم، ج:2، ص:427)


فتویٰ نمبر : 9036/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور