بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بوجہ ظلم وستم اور نان نفقہ نہ دینے کے عدالتی تنسیخِ نکاح


سوال

 مسمی عبد اللہ دو لاکھ روپے نقد، دو تولہ طلائی سونا اور آبائی مکان  میں سے حصہ رسدگی تین مرلے حق مہر اورناچاکی کی صورت میں نان نفقہ کے لیے ماہانہ دس ہزار وپے مقرر  کرکے نکاح کیا، لیکن شادی کے بعد شروع ہی سے شوہر کا رویہ بیوی کے ساتھ اچھا نہ تھا، معمولی باتوں پر بیوی کو  مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور شوہر منشیات کے کاروبار سے منسلک ہے، بیوی کو اس میں ساتھ رکھنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالتا تھا اور بیوی کے انکار کی صورت میں اسے زد وکوب کرتا تھا، یہاں تک کہ بیوی نے تنگ آکر خودکشی کا ارادہ کیا۔ نیز بیوی پروالدین کے ساتھ ملنے اور ان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی پابندی لگائی تھی۔ شادی کے چار، پانچ ماہ بعد اس کی والدہ باز پرس کے لیے اس کے گھر آئی تو شوہر اور اس کے گھر والے طیش میں آکر بیوی کو والدہ کے ہمراہ اپنے گھر سے نکال دیا، جس کے بعد وہ والدین کے گھر میں رہی اور شوہر نے نہ کوئی خبر گیری کی اور نہ ہی نان نفقہ کے لیے خرچہ بھیجا۔ اس دوران  بیوی نے والدین اور مشران کے ذریعے شوہر سے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ وہ بیوی کے حقوق کو تسلیم کرے، مگراس نے بیوی اور ان کے والدین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اس صورتِ حال میں بیوی نے عدالت میں کیس دائر کیا ۔ سمن جاری ہونے اور بذریعہ اخباری اشتہار اطلاع دینے کے  باوجودشوہر عدالت میں حاضر نہ ہوا تو عدالت نے تنسیخِ نکاح کی ڈگری جاری کی۔ اب سوال یہ ہے کہ  کیا یہ ڈگری شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ میاں  بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جائےتو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرے تاہم اگر شوہر نہ حقوق ادا کررہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں یہ شوہر متعنت کہلاتا ہے ، اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم/عدالت کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، بشرطیکہ یہ عورت عزت وآبرو کا لحاظ رکھتے ہوئے کسب معاش پر قدرت نہ رکھتی ہو، یا نفقہ پیدا کرنے کی قدرت تو ہو، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے کی صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو ، ایسی صورت میں عدالت مکمل تحقیق کرے اگر عورت شوہر کے ظلم وستم کو ثابت کرے تو عدالت شوہر کو حکم دے کہ یا تو بیوی کو صحیح طریقے سے آباد کرےیا طلاق دے دے۔ اگر وہ صحیح طریقے سے بیوی کو اپنے پاس رکھنے پر آمادہ ہوجائے تو ٹھیک اور اگر انکار کرے یا عدالت کا نوٹس اور سمن ملنے کے باوجود عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو  اور بیوی بہر صورت اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہوتو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے ، اور یہ تنسیخ شرعاً معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ عورت کی طرف سے عدالت میں دائر کردہ درخوست اور عدالتی فیصلہ میں ذکر شدہ تفصیلات  حقیقت پر مبنی ہوں یعنی واقعی شوہراس پر ظلم وستم کرتا رہا ہواور اس کو بلا وجہ گھر سے نکال دیا ہو اور  نان نفقہ بھی  نہ دیتا ہو،  نیز نوٹس ملنے کے باوجود وہ بغیر عذر کے  عدالت میں حاضر نہ ہوا ہو  تو ایسی صورت میں  عدالت کا فسخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے۔

 

وأما المتعنت الممتنع عن الإ نفاق ،ففي مجموع الأمير ما نصه :إن منعها نفقة الحال،فلها القيام،فإن لم يثبت عسره أنفق،أو طلق،وإلاطلق عليه۔قال محشيه :(وإلاطلق) أي عليه الحاكم من غير تلوم ۔(الحيلة الناجزة ، ص: (133


فتویٰ نمبر : 6370/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور