بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
شہدا کے ارواح قبض کرنے والا فرشتہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کی شہدا کے ارواح کونسا فرشتہ قبض کرتا ہے؟
جواب
نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مختلف فرشتوں کو مختلف امور سرانجام دینے پر مقرر کیا ہے۔ روح قبض کرنے کی ذمہ داری ملک الموت کے سپرد کی ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴿قل يتوفٰكم ملك الموت الذي وكل بكم﴾ (السجدة:11) ترجمہ: کہہ دو کہ تمہیں موت کا وہ فرشتہ پورا پورا وصول کرلے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔اس آیت کی تفسیر میں مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ تمام ترجانداروں کے ارواح قبض کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالی نے ملک الموت کے حوالے کی ہے، جس کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے، چاہے وہ جاندار انسان ہو یا انسان کے علاوہ کوئی دوسرا جاندار ہو، حتی کہ مکھی اور مچھر کی روح کو بھی ملک الموت قبض کرتا ہے، جیسا کہ جعفر بن محمد کی روایت میں اس کی تصریح ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسانوں کے ارواح قبض کرنے والا فرشتہ حضرت عزرائیل علیہ السلام ہے، چاہے وہ انسان کافر ہو یا مسلمان اور چاہے عام مسلمان ہو یا شہیدہو، البتہ "سنن ابن ماجہ اور المعجم الکبیر للطبرانی" میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے جس میں سمندر میں شہید ہونے والے کے متعلق یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سمندر میں شہید ہونے والے شخص کی روح کو اللہ تعالی خود قبض کرتے ہیں۔تاہم محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے۔
﴿ملك الموت﴾ واسمه عزرائيل ومعناه عبدالله ۔۔۔ وأن ملك الموت يتوفى أرواح جميع الخلائق حتى البرغوث والبعوضة. روى جعفر بن محمد عن أبيه قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ملك الموت عند رأس رجل من الأنصار، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: (ارفق بصاحبي فإنه مؤمن) فقال ملك الموت عليه السلام: (يا محمد، طب نفسا وقر عينا فإني بكل مؤمن رفيق۔۔۔ والله يا محمد لو أني أردت أن أقبض روح بعوضة ما قدرت على ذلك حتى يكون الله هو الآمر بقبضها۔(الجامع لأحكام القرآن، ج:14، ص:93)
عن قيس بن محمد الكندي قال: حدثنا عفير بن معدان الشامي، عن سليم بن عامر قال: سمعت أبا أمامة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "شهيد البحر مثل شهيدي البر، والمائد في البحر كالمتشحط في دمه في البر، وما بين الموجتين كقاطع الدنيا في طاعة الله، وإن الله عز وجل وكل ملك الموت بقبض الأرواح إلا شهيد البحر، فإنه يتولى قبض أرواحهم ويغفر لشهيد البر الذنوب كلها، إلا الدين ولشهيد البحر الذنوب والدين"۔(سنن ابن ماجة، كتاب الجهاد، باب فضل غزو البحر، ص:199)
قال البصيري: هذا اسناد ضعيف، عفير بن معدان المؤذن ضعفه أحمد وابن معين ودحيم وأبوحاتم والبخاري والنسائي وغيرهم۔(إنجاز الحاجة شرح سنن ابن ماجة، كتاب الجهاد، باب فضل غزو البحر، ج:6، ص:521)
وذكر المناوي أن الطبراني رواه عن الكندي أيضا، ثم قال: قال الزين العراقي: وعفير بن معدان ضعيف جدا۔(سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة، ج:2، ص:223)