بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

گناه لوگوں میں بیان کرنے کے بعد توبہ سے معافی


سوال

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے  سنا کہ : میری ساری امت کو معاف کیا جائے گا، سوائے گناہوں کو اعلانیہ اور کھلم کھلا کرنے والوں کے، اور یہ بھی اعلانیہ گناہ ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے، حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے، مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی، تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا  ۔ میں نے سنا ہے انسان زمین آسمان کو گناہ سے بھر دے اور سچے دل سے توبہ کرلے اللہ معاف کر دیتا ہے۔مذکورہ حدیث کی روشنی میں عرض ہے کہ  میرا ایک دوست ہے جو 18 سال کی عمر میں ایک لڑکی سے زنا کا مرتکب ہو گیا تھا لیکن جب اُسے گناہ کا پتا چلا تو وہ بہت پریشان ہوا اور  اس نے سچے دل سے رو روکر  توبہ کی اور  اب سبھی گناہ سے دور رہتا ہے۔لیکن اُس سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ اللہ کے رکھے پردےکی پردہ دری کر بیٹھا ہے اس طرح سے کہ اس نے  گھبراہٹ میں وہ  گناہ (زنا کے بارے میں) مجھے بتا دیا ہے  ۔اب جب سے یہ حدیث سنی  ہے میرا دوست تب سے مایوسی اور نا اُمیدی میں ڈوب گیا ہے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے ۔اب آپ یہ بتائیے کہ کیا میرے دوست کے لیے معافی کی گنجائش ہے اور  کیا  اسکی توبہ قبول ہوگی؟

جواب

              واضح رہے کہ زنا بہت بڑا گناہ ہے ، قرآن وحدیث میں زنا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں اور جب اللہ  کسی پر پردہ ڈالے توپھر خود اس راز کو فاش کرنا  بھی  بڑا گناہ ہے ، لیکن اگر سچے دل سے توبہ کی جائے اور آئندہ اس گناہ کے نہ کرنے کا پختہ عزم کیاجائے تو اللہ تعالی ان گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی علانیہ گناہ کرے یاگناہوں کالوگوں کے سامنے  تذکرہ کرے اور اس سے توبہ نہ کرے اس کو اللہ معاف نہیں کرتا ،جب کہ توبہ کرنے سے ہر گناہ معاف ہو جاتا ہے چنانچہ قرآن و احادیث میں توبہ سے سارے گناہوں کی معافی ذکر ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ :"گناہ سے (صدق دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک وصاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو"۔

 

مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا (سورة النساء، آيت:110)

عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التائب من الذنب، كمن لا ذنب له. (سنن ابن ماجه، باب ذكر التوبة، رقم الحدیث: 4250، ص: 320)

بل المعنى: كل أمتي لا يؤاخذون أو لا يعاقبون عقابا شديدا إلا المجاهرون ( مرقاة المفاتيح، كتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغيبة والشتم، ج:7، ص:3034)

(إلا المجاهرين) هم الذين جاهروا بمعاصيهم وأظهروها وكشفوا ما ستر الله تعالى عليهم فيتحدثون بها لغير ضرورة ولا حاجة. (شرح النووي علی مسلم،كتاب الزهد، باب النهي عن هتك الإنسان ستر نفسه،ج:11، ص:7267)


فتویٰ نمبر : 4983/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور