بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

﴿وهو معكم أين ما كنتم﴾ میں معیت سےمراد


سوال

اللہ تعالی کے قول ﴿وهو معكم أين ما كنتم﴾سے معیت ذاتی مراد ہے یا معیت علمی؟اگر مرادمعیت علمی ہو تو پھر اشکال یہ ہے کہ "هو"ضمیرکا مرجع صفت علم ہونا لازم آتا ہے ،حالانکہ اس کا مرجع ذات ہوتا ہے صفت نہیں اوردوسرا  اشکال یہ ہے کہ  اللہ تعالی کا وجود کہاں پرہے،اگر اللہ کا وجود کہیں پر بھی مانی  جائے تواللہ کے لیے مکان کا ثبوت لازم آئے گا؟اگر  مراد معیت ذاتی ہو تو  پھرایک اشکال یہ ہے کہ پھرمعراج  کے موقع پر "عروج الی السمآء"کی کیا ضرورت تھی اور دوسرا اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ تعدد باری تعالی لازم آئےگا کیونکہ جتنے انسان ہیں ہر ایک کے پاس اللہ تعالی ہوں گے؟ نیز اللہ کا وجود عالم کے اندر ہے یا عالم سےباہر؟

جواب

            واضح رہے کہ جن آیات واحادیث مبارکہ میں اللہ تعالی کے لیے کوئی ایسا امر ثابت کیا گیاہو جو بظاہر حوادث کی صفت ہو تواس بارے میں اہل سنت والجماعت کی دو رائے پائی جاتی ہیں۔پہلی رائےجمہور سلف ومحدثین کی ہےکہ ایسی آیات و احادیث متشابہات میں سے ہیں،چنانچہ دیگرمحکم نصوص کا اتباع کرتے ہوئے متشابہات کے معنی مرادی اورکیفیت کے بارے میں توقف وسکوت اختیار کیا جائے گااور ان کا ظاہری معنی جو تشبیہ کو مستلزم ہووہ مراد نہیں لیا جائے گا۔دوسری رائے متکلمین اور متاخرین علماکی ہےکہ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ،بلکہ ان کے مجازی معنی مراد ہیں،چنانچہ سوال میں مذکورآیت کریمہ کے بارے میں جمہور اور متقدمین کی یہی رائے ہےکہ معیت ثابت ہےتاہم اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں اورمتکلمین ومتاخرین کی رائے یہ ہے کہ اللہ کی معیت سے مراد اللہ تعالی کا علم ہے یعنی اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے اورکوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔یہ معیت ِعلمی آیت کے سیاق وسباق سے بھی معلوم ہوتا ہےکہ آیت کے شروع میں علم کا ذکر ہے اور آیت کااختتام بھی علم پر ہوا ہے ۔

          اللہ تعالی کے بارے میں مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ لکھتے ہیں کہ "اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے،یقینا جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی مخلوقات کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدث کی  علامات سے مبرا ہے ،جیساکہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں کہ کم فہم سمجھ لیں مثلا یہ کہ ممکن ہےاستواسے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے۔البتہ جہت ومکان کا اللہ تعالی کےلیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں  سمجھتے اور یو ں کہتے ہیں کہ وہ جہت و مکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ وعالی ہے۔(المہند علی المفند،ص:33)

          نیز حضورﷺکا معراج  کے موقع پر "عروج الی السمآء"ایک معجزہ تھا ،جس میں اللہ تعالی اپنی قدرت کی نشانیاں ظاہر کرنا چاہتے تھے۔

 

قال الله تعالى:﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾[الإسراء:1]

{وهو معكم أين ما كنتم}تمثيل لإحاطة علمه تعالى بهم وتصوير لعدم خروجهم عنه أينما كانوا وقيل : المعية مجاز مرسل عن العلم بعلاقة السببية والقرينة السباق واللحاق مع استحالة الحقيقة وقد أول السلف هذه الآية بذلك،أخرج البيهقي في الأسماء والصفات عن ابن عباس أنه قال فيها : عالم بكم أينما كنتم وأخرج أيضا عن سفيان الثوري أنه سئل عنها فقال : علمه معكم وفي البحر أنه اجتمعت الأمة على هذا التأويل فيها وأنها لا تحمل على ظاهرها من المعية بالذات.(روح المعانی،الحديد:4،جزء:27،ص:168)

قال المتكلمون : هذه المعية إما بالعلم وإما بالحفظ والحراسة ، وعلى التقديرين فقد انعقد الإجماع على أنه سبحانه ليس معنا بالمكان والجهة والحيز ، فإذن قوله : {وَهُوَ مَعَكُمْ} لا بد فيه من التأويل.(تفسیرالكبير للفخر الرازی،الحديد:4،ج:10،ص:449)

قال فخر الإسلام:إثبات اليد والوجه حق عندنا،لكنه معلوم بأصله متشابه بوصفه ولا يلزم إبطال الوصف بالعجز عن درك الوصف والكيف ... وكذا ذكره شمس الأئمة السرخسي ثم قال:وأهل السنة والجماعة أثبتوا ما هو معلوم الأصل بالنص أي بالآيات القطعية والدلالات اليقينية،وتوفقوا فيما هو المتشابه وهوالكيفية.(منح الروض الأزهر في شرح فقه الأكبر،ص:124)


فتویٰ نمبر : 4920/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور