بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
پكى ہوئی فصل بیچنے کی صورت میں عشر کا حکم
سوال
پکی فصل فروخت کردی ہے اب عشر بائع پر ہوگا یا مشتری پر ؟ نیز عشرکس اعتبار سے ہوگا جو رقم ملی ہے اس کا عشر نکالیں گے یا زمین کی جتنی آمدنی مشتری کےپاس آئے اس کا اعتبار ہوگا؟
جواب
اگر فصل پكنے سے پہلے فروخت کی جائے تو خریدنے والے پر عشر کی ادائیگی لازم ہوگی ،لیکن اگر فصل پکنے کے بعد فروخت کی جائے تو پھر بائع (فروخت کرنے والا) پر عشر لازم ہوگا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر بائع پکی ہوئی فصل فروخت کرے تو اس صورت میں عشر بائع پر لازم ہوگا اور جتنی رقم فصل کے فروخت کرنے سے حاصل ہوئی ہے اس میں سے عشر ادا کرے گا۔
ولو باع الزرع إن قبل إدراكه، فالعشر على المشتري، ولو بعده فعلى البائع ۔(الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة، باب العشر،ج:3، ص:276)
ولو باع العنب، أخذ العشر من ثمنه، وكذلك لو إتخذه عصيرا، ثم باعه، فعليه عشر ثمن العصير۔ ۔ ۔ ولا يأكل شيئا من طعام العشر، حتى يودي عشره۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الزكوة، باب، زكوة الزرع والثمار، ج:1، ص:187)