بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نمازکے دوران ہنسنے کا حکم


سوال

ایک جماعت ہو رہی ہو، اور امام رکوع کی حالت میں چلا گیا ہواو راسی دوران ایک آدمی  تیزی کے ساتھ آئےکہ رکعت پالے ،تو اس کے تیزی کے ساتھ آنے کی وجہ سے امام اور مقتدی نماز کے دوران  ایسے ہنسے کہ ایک دوسرے کے ہنسنے کی آوازسن لیں اور دوبارہ  وضوکیے بغیر اسی وضوپر اسی امام کی  اقتداء میں از سر نونماز پڑھ لیں  ، تو اب اس نماز اور وضو کا  کیا حکم ہے؟اوراگر  اس وقت کسی نےنماز کی  قضاء بھی نہیں کی ، تو وقت گزنے کے بعد ان پر  قضاء ہے یا نہیں ؟

جواب

            واضح رہےکہ رکوع او رسجدے والی نماز کے دوران کسی  شخص کا اِس قدر آواز کے ساتھ ہنسنا کہ جس کو دوسرے لوگ سن سکیں ،اِس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور وضوء بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔اوراگرہنسناصرف اِس قدر ہو کہ اُس کو خود سنا جاسکے ، یہ نماز کو فاسد کردیتا ہے، لیکن اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

            صورت مسئولہ کے مطابق  اگر امام اور مقتدی  نماز کے دوران ایسے ہنسے ہوں  کہ ہنسنے کی آواز  ایک دوسرے نے سنی ہو تو ان کی نماز فاسد  ہوئی اوروضو بھی ٹوٹ گیا ،لہٰذا  وقت کے اندروضو کرکے نماز ادا نہ کی ہو  تو وقت گزرجانے کے بعد بھی نماز کی قضاء كرنالازم ہے۔

 

قال (والقهقهة في الصلاة تنقض الوضوء، والتبسم لا ينقضه....واستحسن علماؤنا رحمهم الله لحديث زيد بن خالد الجهني قال:كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصلي بأصحابه - رضوان الله عليهم - ‌إذ ‌أقبل ‌أعمى ‌فوقع ‌في ‌بئر، ‌أو ‌ركية ‌هناك ‌فضحك ‌بعض ‌القوم فلما فرغ النبي - صلى الله عليه وسلم - من صلاته قال:"من ضحك منكم فليعد الوضوء، والصلاة".(المبسوط للسرخسي، كتاب الصلاة، باب الوضوء والغسل، ج:1،ص:77)

القهقهة في كل صلاة فيها ركوع وسجود تنقض الصلاة والوضوء عندنا. كذا في المحيط سواء كانت عمدا أو نسياناكذافي الخلاصة.ولاتنقض الطهارة خارج الصلاة والضحك يبطل الصلاةولايبطل الطهارة.(الفتاوي الهندية، كتاب الصلاة،الفصل الخامس في نواقض الوضوء،ج:1،ص:29)


فتویٰ نمبر : 9024/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور