بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زنا كے ارتكاب كے بعد پاك دامن عورت سے نكاح كرنا
سوال
ميرے نكاح ميں ايك ديندار عورت ہے۔ لیکن نکاح سے پہلے میں دو عورتوں سے زنا کرچکا ہوں۔جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کی ہے۔کیا دیندار عورت کے ساتھ کیا گیا میرا نکاح جائز ہے یا نہیں ؟کیونکہ ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ایک عورت کے ساتھ زنا کے بعد آپ کا نکاح دیندار عورت کے ساتھ ٹھیک تھا جبکہ دوعورتوں کے ساتھ زنا کے بعد اب دیندار عورت کے ساتھ آپ کا نکاح ٹھیک نہیں۔
جواب
زنا کا شمار گناہ کبیرہ میں ہوتا ہے۔جس سے سچے دل سے توبہ کرنا لازم ہے۔تاہم زنا کے مرتکب شخص کا نکاح کسی پاک دامن عورت سے ممنوع نہیں۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر زنا سے توبہ تائب شخص نے شرعی گواہوں کی موجودگی میں کسی عاقل بالغ دیندار عورت سے نکاح کیا ہے تو یہ اس کی بیوی ہے،ماضی میں چاہے ایک مرتبہ زنا کا ارتکاب کرچکا ہو یا متعدد مرتبہ اس سے اس عقد نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
قال الله تعالیٰ: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾(النساء:3)
وقوله: { وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ } أي: يقبل التوبة في المستقبل ويعفو عن السيئات في الماضي(تفسيرالقران العظيم لابن كثير، الشورى:25، ج:7، ص:205، دارطيبة للنشر والتوزيع )