بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
وکیل پیشہ کو وکیل کہنے سے ، اس کا نکاح کے لیے وکیل بن جانے کا شبه
سوال
ایک آدمی رپورٹ لکھ رہا ہو کہ: ” قادیانی عبادت گاہ کے میناروں کی وجہ سے علاقہ کے مسلمان سخت تحفظات رکھتے ہیں اور وکلاء میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے “اب وکلاء کو وکیل کہہ دینے سے کیا کہنے والے کے نکاح کا وکیل مندرجہ بالا افراد میں سے کوئی بھی بن سکے گا؟
جواب
معاملات میں وكيل سے مراد وہ شخص ہوتا ہےجسے مؤكل نے كسی خاص معاملہ کے کرنے کی ذمہ داری سونپی ہواور جس کی بنیاد پر وہ اس خاص معاملہ کے سرانجام دینے میں مؤکل کا نائب و وکیل شمار ہوتا ہے۔
صورت مسئولہ میں محض وکیل پیشہ فرد کو وکیل کہہ دینا انھیں کسی معاملہ کی نیابت سپرد کر دینا نہیں اس لیے مذکورہ عبارت ”وکلاء میں بھی بےچینی پائی جاتی ہے“ کہنے والے کی طرف سے وکلاء میں سےکوئی اس کی طرف سےنکاح کا وکیل نہیں بنا جس کی بناء پر وہ نکاح کی وکالت کر سکے۔
أن الوكيل بالشيء مأمور بإتمام ذلك الشيء. (فتح القدير، كتاب الوكالة، باب الوكالة بالخصومة والقبض،ج:8، ص:107)
الوكالة : بفتح الواو وكسرها ، الاسم من وكل فلانا ، فوض إليه أمرا من الأمور... تفويض شخص أمره إلى آخر ، وإقامته مقامه في التصرف۔(معجم لغة الفقهاء، ج:2، ص:123)