بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
"مجھے طلاق پر مجبور کروگی/کررہی ہو" کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
ایک دن میں نے گھر والی کو بولا کہ اتنا مجھے تنگ نہ کرو مجھے طلاق پر مجبور کردوگی یا یہ کہا کہ کررہی ہو، اب مجھے الفاظ یاد نہیں۔پھر بولا ایک دفعہ بولتا ہوں مجھے تنگ یا مجبور مت کرو پلیز۔ پھر بولا دوسری دفعہ کہتا ہوں مجھے تنگ یا مجبور نہ کرو بس۔ یہ وارننگ کے لیے بولا۔ مجھے کچھ علم بھی نہیں تھا، لیکن دھمکی کے لیے کہا تھا اور میری یہ عادت ہے ہر بات میں لوگوں کو تین چانس دیتا ہوں،پھر غصہ ہوتا ہوں، یعنی آگے قدم اٹھاتا ہوں، مجھے بہت شک ہورہاہے کہ میرے نکاح پہ اثر نہ پڑا ہو۔اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ طلاق ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے الفاظ سے واقع ہوتی ہے۔ مستقبل میں طلاق دینے کا وعدہ کرنے یا دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورتِ مسئولہ میں اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ " اتنا مجھے تنگ نہ کرو، مجھے طلاق پر مجبور کردوگی یا کررہی ہو" یہ آئندہ طلاق دینے کی دھمکی ہے، لہذا اگر صرف یہی الفاظ کہے ہوں تو اس جملے کے کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔نیز طلاق محض شک کی بنیاد پر واقع نہیں ہوتی۔ طلاق کے معاملے میں شکوک وشبہات سے بچنا چاہیے اور ایسے شکوک کو دفع کرنا چاہیے۔
صيغة المضارع لايقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال۔(تنقيح الحامدية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:37)