بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
معتکف کا فرض غسل کے علاوہ غسل کے لیے مسجد سے نکلنا
سوال
معتکف کا تبرید کی غرض سے غسل کرنے سے اس کا اعتکاف فاسد ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ معتکف کے لیےمسجد سے باہر نکلنے کی اجازت صرف طبعی یا شرعی ضرورت کی صورت ميں ہے اور چونکہ ٹھنڈک حاصل کر نے کے لیے غسل کرنا نہ طبعی ضرورت ہے اور نہ ہی شرعی حاجت میں داخل ہے۔ لہذا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کی غرض سے مسجد سے باہر نکلنے پر اعتکاف فاسد ہوگا۔
وحرم عليه الخروج إلا لحاجة الإنسان طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الإغتسال في المسجد،أو شرعية كعيد واذان لوموءذنا۔(الدر المختار على صدرردالمحتار، باب الإعتكاف،ج:3،ص:435)
ولا يخرج المعتكف من المسجد إلا لحاجة لازمة شرعية كالجمعة أو لحاجة طبيعية كالبول والغائط۔ (فتاوى قا ضيخان، باب الإعتكاف، ج:1، ص:196)