بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جرابوں کے اوپر موزے پہن کر مسح کرنے کا حکم


سوال

زید عام استعمال ہونے والی جرابوں پر چمڑے کے موزے پہن کر مسح کرتا ہے۔ جب کہ بکر کہتا ہے کہ جرابوں پر پہنے ہوئے موزوں پر مسح کر کے نہ وضو درست ہے نہ ہی نماز پڑھنا درست  ۔وضاحت فرمائیں کہ زیداور بکر میں سے کس کی بات درست ہے ۔

جواب

               وضو کی حالت میں جرابوں کے اوپر اگر موزےپہن لیے جائیں تو یہ مسح کرنے سے  مانع نہیں، تاہم اگر جرابے پہننے کے بعدموزے پہننے سے پہلے وضو ٹوٹ گیا ہواور موزے پہنے ہوں تو شرعا ایسی صورت میں مسح جائز نہ ہوگا۔

              صورت مسؤلہ میں زید کا عام استعمال ہونے والی جرابوں پر موزے پہن کر مسح کرنادرست ہے، بشرطیکہ موزے پہنتے وقت وضو موجود ہو۔

 

(‌أو ‌جرموقيه) ولو فوق خف أو لفافة ۔۔۔ (‌قوله ‌ولو ‌فوق ‌خف) أفاد جواز المسح عليهما منفردين أيضا وهذا لو كانا من جلد، فلو من كرباس لا يجوز ولو فوق الخف إلا أن يصل بلل المسح إلى الخف۔ (‌قوله ‌أو ‌لفافة) أي سواء كانت ملفوفة على الرجل تحت الخف أو كانت مخيطة ملبوسة تحته كما أفاده في شرح المنية۔ ( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، ج: 1، ص:268)


فتویٰ نمبر : 9019/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور