بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

موزوں کے پھٹن میں پانی داخل ہونے کا حکم


سوال

 اگر کسی کے موزوں میں تھوڑا سا پھٹن ہو،جو مسح کے لیے مانع نہ ہو، لیکن اس کے اندر پانی چلا جائے، اور اس کا پاؤں گیلا ہوجائے، تو کیا اس سے مسح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

 

جواب

               واضح رہے کہ جن چیزوں کی وجہ سے مسح ٹوٹ جاتا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ موزے کے اندر پانی داخل ہوجائے، اور اس سے پاؤں کا اکثر حصہ گیلا ہوجائے۔

             صورت مسئولہ میں اگر کسی کے موزے کے اندر پانی داخل ہوکراس کے پاؤں کا اکثر حصہ گیلا ہوجائے، تو صحیح قول کے مطابق اس سے مسح ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے اس پر موزے اتار کر دونوں پاؤں دھونا لازم ہوجاتا ہے۔

 

ولو لبس خفيه على طهارة كاملة ومسح عليهما ثم دخل الماء في أحد خفيه إن بلغ الكعب حتى صار جميع الرجل مغسولا يجب عليه غسل الرجل الأخرى، هكذا في الخلاصة وكذا إذا ابتل أكثر القدم وهو الأصح هكذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الخامس في المسح على الخفين، الفصل الثاني في نواقض المسح، ج:1،ص:88)


فتویٰ نمبر : 9011/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور