بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

”تومجھ پر طلاق ہے“کہہ کر ہاتھ میں موجود پتھر پھینکنا


سوال

ایک آدمی  نے اپنی بیوی سے کہا  کہ ”تو مجھ پر طلاق ہے،چلی جا“اور ہاتھ میں چند کنکر تھے، تعداد معلوم نہیں کتنے تھے،وہ  پھینکے توکتنی طلاق واقع ہوگی ؟

جواب

        واضح رہے کہ طلاق کے وقوع میں بنیادی حیثیت الفاظ کو ہے الفاظ  کہےبغیرطلاق واقع نہیں ہوتی،اگرکوئی طلاق  کے الفاظ کہےاور اس کے ساتھ انگلیوں  سے بھی  اشارہ  کر ےیا پتھر   پھینکے  تو  اگر انگلیوں  یا پتھروں  کی عدد  کے ساتھ تشبیہ دے دے مثلا  یہ کہے کے”تجھے اتنی طلاق ہے  “تو انگلیوں یا پتھروں کی عدد  کے مطابق  طلاق  واقع  ہوگی ۔لیکن  اگر انگلیوں  سے اشارہ کرے یا پتھر پھینکےمگر  ان  کی عدد  کے ساتھ  تشبیہ   نہ دے   تو اس صورت میں ایک طلاق پر تلفظ  کرنے سے ایک  طلاق رجعی واقع ہوگی،اگرچہ ایک سے زائد انگلیوں  سے اشارہ کیا ہو یا ایک سےزائد پتھر پھینکے ہوں۔

           صورت مسٔولہ کے مطابق جب کسی شخص نےاپنی بیوی کو” تو مجھ  پر طلاق  ہے چلی جا“کہہ کر ہاتھ میں  موجود پتھرپھینکے،مگر  پتھروں   کی عدد  کے ساتھ  تشبیہ  کے کوئی  الفاظ  نہیں کہےتو اس سے ایک طلاق رجعی  واقع  ہوئی  ہے ،لہذا عدت کے دوران  اسےرجوع  کرنے کا حق حاصل ہے۔البتہ آئندہ کے لیے اس کو دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا۔

 

 ولو قالت لزوجها طلقني فأشار بثلاث أصابع وأراد بذلك ثلاث تطليقات لا يقع ما لم يقل بلسانه۔(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل الاول فی الطلاق الصريح،ج:1ص:424)

أنت طالق هكذا مشيرا بالأصابع المنشورة وقع بعدده ولو لم يقل هكذا يقع واحدة۔۔۔۔أي بأن قال: أنت طالق وأشار بثلاث أصابع ونوى الثلاث ولم يذكر بلسانه فإنها تطلق واحدة۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطلاق،باب الصريح،مطلب في قولهم اليوم متی قرن بفعل ممتد،ج:4،ص:495)


فتویٰ نمبر : 6374/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور