بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
رضاعی بھائی کے نسبی بھائی سے نکاح کرنا
سوال
نسرین کے بیٹے نعمان نے فرمین کادودھ پیا ہے، اب فرمین کی بیٹی کا نکاح نسرین کے دوسرے بیٹے (نصیر)کے ساتھ ہوا چاہتا ہے۔ کیا یہ نکاح ازروئے شریعت درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پلانے والی کے اصول وفروع اس بچے پر اور دودھ پینے والے کے فروع پلانے والی پر حرام ہوجاتے ہیں، تاہم دودھ پینے والے کی بہن، بھائی کی طرف حرمت کا یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔لہذا فرمین کی بیٹی کا نکاح نسرین کے دوسرے بیٹے (نصیر) کے ساتھ شرعا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔
لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى۔ (رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410)