بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
سونے کو پیسوں کےعوض بیچنا
سوال
آج کل سونے کے دکانداروں کاطریقہ کار یہ ہےکہ اگر ان پر کوئی سونا بیچتے ہیں تووہ ان سے چودہ فیصد کٹوتی کرتے ہیں اور جب اس سونے کے بدلے اسی دکان سے سونا خریدتے ہیں تو آٹھ فیصد کٹوتی کرتے ہیں لیکن اس کی صورت یہ ہوتی ہےکہ جب کوئی سونا بیچتا ہےتو وہ اس کے قیمت بتاتے ہیں کہ یہ سونا اتنی رقم کا ہےپھر اس کے بعد بیچنے والا دوسرا سونا خریدتا ہے حقیقت میں یہ تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ پہلے وہ سونا جوبیچاجاتاہےاس کی قیمت لگا کراس کے بعد دکان دار سےدوسراسونا خریدتا ہےلیکن پہلے عقد کے سونے کا عوض وہ کبھی دیتےہیں اور کبھی نہیں دیتے۔اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سےجب سونا چاندی کا تبادلہ ہم جنس سے ہوتو اس میں دونوں جانب سے برابری ضروری ہےخواہ دونوں طرف سے معیار یکساں ہو یامختلف ہواسی طرح دونوں جانب سےمجلس عقد ہی میں قبضہ بھی ضروری ہے ۔اگر کسی جانب عوض میں زیادتی ہو یا مجلس عقد میں بدلین پر قبضہ نہ ہوتو عقد جائزنہیں ہوگااور اگر عوضین میں سےایک طرف سونا اور دوسری طرف پیسے ہوں توہم جنس نہ ہونے کی وجہ سےنقد اور ادھار دونوں جائز ہے،تاہم وصف ثمنیت میں شریک ہونے کی وجہ سےکسی ایک عوض پر مجلس عقد میں قبضہ لازمی ہے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر دکان دار کو کوئی شخص سونا فروخت کرنے کے لئےلائےاور وہ اس کےبدلے سونا ہی خریدنا چاہتا ہو تو اگر سونے کا سونے سےتبادلہ کیا جائےتو کمی بیشی جائز نہ ہوگی نیز مجلس کے اندردونوں طرف سے قبضہ ضروری ہوگا لیکن اگر سونے کا تبادلہ براہ راست سونے سے نہ ہوبلکہ گاہگ کا سونادکاندارپیسوں کے بدلے خرید لےاور گاہگ اپنی پسند کا سونادکاندار سےپیسوں میں خرید کرقبض کرلےاور پھر دونوں طرف سے حساب بیباق کیا جا ئے تو شرعاً یہ عقد جا ئز ہوگا۔
قال: فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب لا يجوز إلا مثلا بمثل وإن اختلفا في الجودة والصياغة۔۔۔ولا بد من قبض العوضين قبل الافتراق۔(الهداية،كتاب الصرف،ج:3،ص:111،رحمانيه)
وقيد بالنقدين؛ لأنه لو باع فضة بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب الصرف،ج:7،ص:522،دارالكتب العلمية بيروت)