بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مغرب کی اذان اور نماز کے مابین وقفے کا حکم
سوال
مغرب کی نمازاور اذان کے ما بین وقفہ کرنا چاہیے یا نہیں ،اگر وقفہ ہو تو کتنا ہونا چاہیے ؟
جواب
واضح رہے کہ عام حالت میں مغرب کی نماز میں تعجیل افضل اور مستحب ہے، مغرب کی نماز اور اذان کے ما بین وقفے کے بارے میں امام ابو حنیفہ صاحب رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ ایک سکتہ کے بقدر وقفہ کرے، اور موذن بیٹھے نہیں، اور ایک سکتہ کی مقدار ان کے ہاں ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات کے بقدر ہے، اور ایک روایت کے مطابق تین قدم چلنے کے بقدر۔ اور صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک دو خطبوں کے درمیان جلسہ کے بقدر وقفہ کرنا کافی ہے، یعنی ان کے بقول مؤذن اتنی مقدار بیٹھے گا کہ زمین پر تمکن حاصل ہوجائے اور اس میں طوالت نہ ہو۔ اور یہ اختلاف افضلیت میں ہے؛ اس لیے کہ مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان بیٹھنا امام صاحب کے نزدیک بھی جائز ہے اور نہ بیٹھنا اور تین آیتوں کے بقدر فصل کرنا صاحبین کے نزدیک بھی جائز ہے۔
ويجلس بين الأذان والإقامة، إلا في المغرب، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله -، وقالا: يجلس في المغرب أيضاً جلسةً خفيفةً؛ لأنه لا بد من الفصل، إذ الوصل مكروه، ولا يقع الفصل بالسكتة؛ لوجودها بين كلمات الأذان، فيفصل بالجلسة كما بين الخطبتين، ولأبي حنيفة - رحمه الله - أن التأخير مكروه، فيكتفي بأدنى الفصل احترازاً عنه، والمكان في مسألتنا مختلف، وكذا النغمة، فيقع الفصل بالسكتة، ولا كذلك الخطبة. وقال الشافعي: يفصل بركعتين اعتباراً بسائر الصلوات، والفرق قد ذكرناه. قال يعقوب: رأيت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - يؤذن في المغرب ويقيم، ولا يجلس بين الأذان والإقامة، وهذا يفيد ما قلناه".( البناية شرح الهداية،ج:2،ص:102)
(قوله: إلی اشتباک النجوم) ظاهره أنها بقدر رکعتین لایکره مع أنه یکره أخذاً من قولهم بکراهة رکعتین قبلها۔ واستثناء صاحب القنیة القلیل یحمل علی ما هو الأقل من قدرهما توفیقاً بین کلام الأصحاب… واعلم أن التاخیربقدر رکعتین مکروه تنزیهاً وإلی اشتباک النجوم تحریماً". (حاشیة الطحطاوی ج:1، ص،:178)
( قوله : فيسكت قائما ) هذا عنده ، وعندهما يفصل بجلسة كجلسة الخطيب ، والخلاف في الأفضلية ، فلو جلس لا يكره عنده ، ويستحب التحول للإقامة إلى غير موضع الأذان ، وهو متفق عليه ، وتمامه في البحر(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الاذآن،ج:3،ص:201)