بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 03/11/2026 |
جنابت کی حالت میں مسجد میں ٹھہرنا
سوال
اگر کسی تبلیغی ساتھی یا طالب علم کو آدھی رات مسجد میں احتلام ہو جائے اور باہر عنقریب گرم پانی کا بندوبست بھی نہ ہو، نیز بقیہ رات آرام کرنے کی متبادل جگہ نہ ہو تو کیا اس صورت میں وہ جنابت کی حالت میں مسجد ميں ٹھہر سکتا ہے؟
جواب
کسی شخص کو مسجد میں احتلام ہو جائے تو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ تیمم کر کے فوراً مسجد سے باہر نکل جائے اور غسل کا انتظام کرے، اور اگر تیمم کئے بغیر مسجد سے نکل جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، البتہ اگر مسجد سے نکلنا دشمن کے خوف یا سردی کی وجہ سے مشکل ہو تو بہتر یہ ہے تیمم کیے بغیر مسجد میں نہ رکے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی طالب علم یا تبلیغی ساتھی کو مسجد میں سوتے ہوئے احتلام ہو جائے، گرم پانی کا بندوبست نہ ہو،اورسردی کی وجہ سے باہر جانا دشوار ہو تو اسے چاہیے کہ تیمم کر کے مسجد میں ٹھہرے۔
إذا خاف الجنب أو الحائض سبعا أو لصا أو بردا فلا بأس بالمقام فيه والأولى أن يتيمم تعظيما للمسجد. هكذا في التتارخانية.( الفتاوى الهندية، الفصل الرابع في احكام الحيض والنفاس، ج: 1، ص: 92)
ومن احتلم وهو في المسجد يخرج من ساعته فإن كان في جوف الليل وخاف الخروج يستحب له أن يتيمم.(فتاوى قاضيخان، فصل فيما يوجب الغسل، ج: 1، ص: 31)