بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خلاف شرع دعوت ميں شركت كرنے كا حكم


سوال

 رشتہ داروں کی ایسی دعوت میں جانا  جہاں بے پردگی ،تصاویر اور گانوں کے علاوہ دینداروں کوبھی طعن کا نشانہ بنایا  جاتا ہے نیز شعائر الاسلام مثلاً داڑھی، سنت لباس وغیرہ کے بارے میں  بے ہودہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے شرعاً ایسی دعوتوں میں شرکت کرناجائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

                احا دیث مبارکہ میں ایک مسلمان کی دعوت  قبول کرنے كو دوسرے مسلمان پر حق قرار دیا دیا گیاہے ،لیکن  شرط یہ ہے کہ اس  میں کوئی عذر شرعی موجود نہ ہو جہاں کہیں کوئی عذر شرعی   دعوت  قبول نہ کرنے کا متقاضی ہو وہاں قبول نہ کرنا ضروری ہے ۔اسی طرح  اگر دعوت میں شعائر اسلام  کے بارے میں صراحتاً بے ہودہ رویہ اختیار کیا جاتا ہوں  تو ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا جائز نہیں۔

            صورت مسئولہ کےمطابق  اگررشتہ داروں کی دعوت  میں حسب بیان  شعائر اسلام کو پا مال کیا جاتا ہو تو شرعاً ایسی دعوت میں جا نے سے اجتناب  ضروری ہے۔ البتہ اگر دعو ت میں  ایسے معاشرتی  رسوم ہو ں جس کی شریعت میں گنجائش ہو یا لوگ خفیہ اور انفرادی بے ہودہ رویوں کے شکار ہوں   تو شرعاً عوام کے لیے رشتہ داروں کی ایسی دعوت قبول کرنے کی گنجائش ہے ۔

 

عن علي، قال: صنعت طعاما، فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ­فجاء فرأى في البيت تصاوير فرجع ).سنن ابن ماجة، كتاب الأطعمة،باب إذا رأى الضيف منكرا رجع، ج2 ص1114)

‌(دعي ‌إلى ‌وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) فإن قدر على المنع فعل وإلا (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدی (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لأن فيه شين الدين (وإن علم أولا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله۔ ۔ ۔ قلت وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه السلام  "استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر "أي بالنعمة،فصرف الجوارح الى غير  ماخلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر  فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع ، "لما روى عليه السلام أدخل اصبعه في أذنه عند سماعه"۔) الدرالمختار علی صدر رد المحتار،كتاب الحظر والاباحة،ج2،ص501، 504)


فتویٰ نمبر : 4891/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور