بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
پاؤنڈکوپاکستانی روپیہ کے بدلےمارکیٹ ریٹ سےزیادتی کےساتھ ادھارفروخت کرنا
سوال
میں کرنسی کاکاروبارکرتاہوں،میرےپاس پاونڈہوتےہیں، ان کوپاکستانی روپیہ کےبدلےفروخت کرتاہوں ،جس کاطریقہ کارکچھ یوں ہوتا ہےکہ چونکہ میں پاونڈ نقداًاداکرتاہوں اورخریدنےوالاپاکستانی روپیہ بعدمیں اداکرتاہے،اس لیےمیں اس کومارکیٹ ریٹ سےمہنگےداموں فروخت کرتاہوں،چنانچہ اگروہ ایک مہینہ کی تاخیرسےپاکستانی روپیہ اداکرتاہےتومیں اس کوفی پاؤنڈمارکیٹ ریٹ سےدس روپیہ زیادہ پربیچتاہوں ، مثلا:آج کا مارکیٹ ریٹ فی پاؤنڈ سو(100)روپیہ ہےتومیں اس کوایک سودس (110)روپیہ فی پاؤنڈدیتاہوں۔اسی طرح ہفتہ کے اعتبارسےاپناریٹ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ،لیکن ایک ریٹ متعین کرکےبیچتاہوں،پھرمہینہ کےدرمیان میں پاؤنڈ کی قیمت میں اگراتارچڑھاؤواقع ہوتواس سےہماراکوئی سروکار نہیں ہوتاالبتہ خریدنےوالااس پاؤنڈکےذریعےکیاکام کرتاہے،اس کامجھےخبرنہیں۔تومذکورہ کاروبار شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
کسی ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ جنس کے اختلاف کی وجہ سےکمی وزیادتی کے ساتھ جائز ہے،نیزمجلس میں تقابض بھی ضروری نہیں،البتہ ایک جانب سے کرنسی پرقبضہ ضروری ہے،كيونكہ کرنسی ثمن عرفی ہونےکی وجہ سےمتعین کرنےسےمتعین نہیں ہوتی،تاہم قبضہ سےاس میں تعیین آجاتی ہے،اس لیےایک جانب سےقبضہ ضروری ہے،تاکہ ادھارکےبدلےادھارکی بیع لازم نہ آئے،جس سےحدیث میں ممانعت آئی ہے۔
صورتِ مسئولہ کےمطابق پاؤنڈ کوپاکستانی روپیہ کےبدلےادھارمارکیٹ ریٹ سےزیادہ میں فروخت کرنا جائز ہے،البتہ مجلسِ عقدہی میں ادھار کی مدت اورریٹ متعین کرنااورایک کرنسی پرقبضہ کرناضروری ہے۔
عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن بيع الكالى بالكالى هو النسيئة بالنسيئة.(المستدرك على الصحيحين للامام الحافظ أبى عبد الله الحاكم النيسابوري، كتاب البيوع، ج:2، ص:65،دار الكتب العلمية)
ولو اشترى فلوسا أو طعاما بدراهم حتى لم يكن العقد صرفا وتفرقا بعد قبض أحد البدلين حقيقة يجوز .(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب التاسع في ما يجوز بيعه وما لايجوز، الفصل الأول في بيع الدين وبيع الأثمان، ج:3، ص:104)
ثم اعلم أن ذكر النساء للاحتراز عن التأجيل؛ لأن القبض فى المجلس لا يشترط إلا فى الصرف، وهو بيع الأثمان بعضها ببعض، أما ما عداه، فإنما يشترط فيه التعيين دون التقابض.(ردالمحتار على الدرالمحتار، كتاب البيوع، باب الربا، ج:7، ص:172)