بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
نسبی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
سوال
زین اللہ اور اصغر دونوں شیر خوار تھے، اور آپس میں چچازاد بھی تھے ، زین اللہ نے اصغر کی والدہ کا دودھ پیا ۔ اب زین اللہ کے دوسرے بھائی کا نکاح اصغر کی بہن کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پلانے والی کے اصول وفروع اس بچے پر اور دودھ پینے والے کے فروع پلانے والی پر حرام ہوجاتے ہیں، تاہم دودھ پینے والے کی بہن، بھائی کی طرف حرمت کا یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔لہذا زین اللہ کے نسبی بھائی کا اصغر کی نسبی بہن سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔
لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى۔ (رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410)