بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نا فرمان بیوی کو طلاق دینا


سوال

اگر مياں بيوى میں مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ناچاقی ہو جائے۔ ۱۔بیوی انتہائی نافرمان، ضدّی، بد خو، بد اخلاق ہو اور ناقابلِ اصلاح ہو۔۲۔ بیوی انتہائی ناقابلِ بھروسہ ہو اور شوہر کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہو، شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی ہو۔۳۔شوہر کو اس سے جانی اور مالی خطرات لاحق ہوں۔تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ  کیا اس صورت میں شوہر بیوی کو طلاق دینے میں حق بجانب ہو گا۔

جواب

              واضح رہے کہ زوجین کے مابین اگر نباہ نہ ہو سکے ، اوربیوی شوہر کی نافرمان ہو جس کی وجہ سے  اختلاف اور ناراضگی پیدا ہو۔توایسی صورت حال میں دونوں کے مابین مصالحت کے لیے طریقہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے رشتےداروں میں سے ایک ایک سمجھدار آدمی کو بیچ میں ڈال کر صلح کی کوشش کی جائے، اگر اس سے اصلاح ہو جائےتو طلاق کا اقدام نہیں کر نا چا ہیے ، لیکن اگر اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے تو پھر ایسی ناگزیر صورت حال میں شریعت نے شوہر کو طلاق دینے کا اختیار دیا ہے ۔

         صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً شوہر نے اصلاح کے ممکنہ طریقے استعمال کیے ہوں ، لیکن بیوی پھر بھی نافرمان ہو اور حدود اللہ کی رعایت کے ساتھ زندگی نہ گزار رہی ہو تو ایسی صورت میں شوہر طلاق دے سکتا ہے۔ طلاق کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی  کو ایسے طہر ( پاکی  کی حالت) میں صریح لفظ کے ساتھ صرف ایک طلاق دی جائے جس میں شوہر نے جماع نہ کیا ہو ، پھر طلاق دینے کے بعد اس کو تین حیض گزرنے تک چھوڑ دے جس سے  عدت ختم ہو کر وہ شوہر کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اور ایک طلاق بائن ہو جائے گی، لہٰذا آئندہ اگر دونوں دوبارہ رشتہ ازدواج قائم کرنا چاہیں تو نیا نکاح کر لیں گے۔

 

قال اللہ تعالی:وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَااِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَااِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا(النساء:35)

أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه ولا طلاق ولا في حيضة طلاق ولا جماع ويتركها حتى تنقضي عدتها ثلاث حيضات إن كانت حرة۔(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،ج4، ص186)


فتویٰ نمبر : 6342/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور