بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
کرامت میں ولی کا اختیار
سوال
اہل سنت والجماعت کاعقیدہ ہےکہ معجزہ اورکرامت اللہ تعالی کافعل ہوتاہے،جونبی اورولی کےہاتھ پرظاہرہوتاہے،نبی اورولی کواس کےصدورپرکوئی اختیارنہیں ہوتا،لیکن ہمارےبعض اکابرکی عبارات سےبظاہرایسامعلوم ہوتاہےکہ کرامت کاصدورولی کےاختیارمیں ہوتاہے،جیساکہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ"لمعات التنقیح"میں کرامت کےبارےمیں لکھتےہیں"والحق جوازوقوعھاقصداواختیارا"،اہل بدعت حضرات ان عبارات کولےکرعوام کودھوکہ دےکرکہتےہیں کہ کرامت کاصدورولی کےاختیارمیں ہوتاہے،جس سےعوام کےگمراہ ہونےکااندیشہ ہے،توبراہِ کرم اکابرکی کتب سے"قصد"اور"اختیار"کامطلب واضح فرمائیں؟
جواب
کرامت اس امرکوکہتےہیں جونبی یاولی سےصادرہو،اورقانونِ عادت کےخلاف ہو۔اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ معجزہ اور کرامت خدا تعالی کا فعل ہوتا ہے جو نبی اور ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے،کرامت کےلیے نہ اس ولی کااس سےباخبرہوناضروری ہے،اورنہ اس کےقصدوارادے سےمتعلق ہوناضروری ہے،اس لیےکہ وہ فعل اللہ تعالی ہی اپنی قدرت اورارادہ سےپیدافرماتےہیں،ولی کےہاتھ پرصرف اس کاظہورہوتاہے،ولی بغیراللہ تعالی کےارادےاورقدرت کےمحض اپنےقصداوراختیارسےکرامت کاظہورنہیں کرسکتا،البتہ کبھی ایساہوتاہےکہ کسی موقع پرولی کےقصدوارادہ پراللہ تعالی اپنی قدرت اورمشیت سےکرامت کاظہورفرماتےہیں،شرعاکرامت کاایساصدورجائزبلکہ واقع ہے،جیسےحضرت عمررضی اللہ عنہ نےجب اپنےارادےسےاللہ تعالی کاواسطہ دےکردریائےنیل کوخط لکھا،تودریااللہ تعالی کےحکم سےبہنےلگا،اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نےمدینہ منورہ سےحضرت ساریہ کوآوازدی"یاساریۃ الجبل"تومیلوں دورہونےکےباوجودوہ آوازان تک پہنچ گئی،اسی طرح دوسرےکئی واقعات ہیں،شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت کامطلب بھی یہ ہےکہ کبھی ولی کےقصدواختیارکےساتھ اللہ تعالی کی قدرت وارادہ شامل ہوکرکرامت کاظہورہوجاتاہے۔
لہذاسوال میں مذکورہ عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ولی اللہ تعالی کی طرح خود کائنات میں متصرف ہو تا ہے ،اللہ تعالی کے ارادے کا پابند نہیں ہوتا ، جیسا کہ اہل ِ بدعت کا نظریہ ہے ، اہل ِ بدعت کا اپنے باطل نظریہ کے ثبوت کے لیے حضرت شیخ کی مذکورہ عبارت یا اس سے ملتی جلتی دیگر عبارات سے استدلال کرناغلط ہے ۔
(وکرامات الأولیآءحق،فتظھرالکرامة علی طریق نقض العادۃ للولي من قصد المسافةالبعیدۃفی المدۃ القلیلة ،وظھورالطعام،والشراب،واللباس عندالحاجة...ولن یکون ولیاإلاوأن یکون محققا بدیانته ورسالة رسوله)مع الطاعة له في أوامرہ ونواھیہ،حتی لوادّعی ھذاالولي الاستقلال بنفسه،وعدم المتابعة،لم یکن ولیا.(شرح العقائدالنسفیة،مبحث:کرامات الأولیآءحق،ص147,145)
من عبدالله أمیرالمؤمنین إلی نیل مصرأمابعدفإ ن کنت إ نماتجری من قبلك فلاتجر،وإن کان اللہ الواحدالقھارھوالذي یجريك،فنسأل الله الواحدالقھارأن یجريك.قال:فألقی البطاقة فی النیل،فلماألقی البطاقة أصبحوایوم السبت،وقدأجراہ اللہ تعالی ستة عشرۃذراعافی لیلة واحدۃ،وقطع اللہ تعالی تلك السنة عن أھل مصرإ لی الیوم.(شرح أصول اعتقادأھل السنة،سیاق ماروي من کرامات أمیرالمؤمنین أبي حفص عمربن الخطاب رضي اللہ عنه،ج2ص402,401)