بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کسی مضمون میں قرآن کریم کی ایک دوآیات کاصرف ترجمہ لکھنا


سوال

ایک شخص کتاب لکھ رہاہے،وہ کتاب میں قرآن کریم کی آیات بطوراستدلال پیش کرتاہے،تووہ آیات لکھنےکی بجائے صرف ان کاترجمہ لکھتاہے،توکیاآیات لکھنےکےبغیرصرف ان کاترجمہ لکھناشرعاجائزہے؟

جواب

             واضح رہےکہ پورےقرآن کریم کاصرف ترجمہ لکھنا،لکھوانااورشائع کرنا باجماعِ امت حرام اورباتفاق ائمہ اربعہ ممنوع ہے،کیوں کہ اس میں قرآن کریم کےاصل نظم میں تغیّروتبدّل واقع ہونےکااندیشہ ہے،البتہ ایک دوآیات کاصرف ترجمہ لکھنا اس میں داخل نہیں۔

          صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرکوئی شخص کتاب لکھ رہاہو،اوربعض جگہوں میں قرآن کریم کےعربی الفاظ لکھنےکےبغیرایک دوآیات کاصرف ترجمہ بطوراستدلال پیش کرتاہو،تواس کی گنجائش ہے،البتہ اگرزیادہ حصہ،مثلاً:کوئی پوری سورت لکھنی ہو،توپھرصرف ترجمہ نہ لکھاجائے۔

 

إن اعتاد القراءة بالفارسية أو أراد أن يكتب مصحفا بها يمنع وإن فعل في آية أو آيتين لا ، فإن كتب القرآن وتفسير كل حرف وترجمته جاز(فتح القدیر،کتاب الصلوۃ،باب صفة الصلوۃ،ج1ص248)


فتویٰ نمبر : 4818/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور