بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
خلع کی صورت میں مہر واپس لینا
سوال
زیدنےبیوی کوبوقت نکاح ایک ایکڑزمین انتقال کردی تھی زید کی بیوی چارسال سےمیکےبیٹھی ہےاور اب چند دن پہلے اس نےعدالت میں خلع لینےکامقدمہ کیاہے۔ اور زیدنے نکاح کے وقت بیوی کو ایک ایکڑزمین بطور حق مہرانتقال کرکے دی تھی،کیا شوہرکوزمین واپس مل سکتی ہے؟جو اس نےبیوی کوبطور حق مہرانتقال کرکے دی تھی۔
جواب
واضح رہے خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جو زوجین کی رضامندی پر موقوف ہے، خواہ وہ مہر معاف کرنے کی صورت میں ہو یا دیگر مالی معاوضات پر ہو ،خلع کے بدلے میں عورت سے جو کچھ لیا جاتا ہےاس کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر قصور شوہر کی طرف سے ہو تو دیانتاً بیوی سے مال یاکسی بھی چیز کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ۔ہاں اگر قصور بیوی کا ہو تو اس صورت میں شوہر کےلیے مقدارِ مہر تک مال لینابلاکرا ہت جائزہے، مہر سے زیادہ لینامناسب نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرخلع مہرمیں دی ہو ئی زمین کے بدلے ہو جائے،اور قصور بیوی کی طرف سے ہو توشوہر کےلیے بدل خلع کا لینا بلاکراہت جائز ہے،اور اگر قصور شوہر کے طرف سے ہو تو پھر شوہر کو خلع میں مال نہیں لینا چاہیے۔
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى "لا بأس به" يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.(قوله: وبه يحصل التوفيق) أي بين ما رجحه في الفتح من نفي كراهة أخذ الأكثر وهو رواية الجامع الصغير، وبين ما رجحه الشمني من إثباتها وهو رواية الأصل، فيحمل الأول على نفي التحريمية والثاني على إثبات التنزيهية، وهذا التوفيق مصرح به في الفتح (ردالمحتارعلی الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الخلع،ج:5،ص:99)
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وماحكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع،ج:1،ص:488)
وعن ابن عمر رضي الله عنه أن مولاة اختلعت بكل شيء لها فلم يعب ذلك عليها، وعن ابن عباس رضي الله عنه لو اختلعت بكل شيء لأجزت ذلك، وهذا؛ لأن جواز أخذ المال هنا بطريق الزجر لها عن النشوز؛ ولهذا لا يحل إذا كان النشور من الزوج، وهذا لا يختص بما ساق إليها من المهر دون غيره.(المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق،باب الخلع،ج:6،ص:171)