بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
پیدائشی مردہ بچے کا نام رکھنا
سوال
بچہ ماں کے پیٹ میں مر چکا ہے بعد از پیدائش کیا اس کا نام رکھنا ضروری ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی بچہ پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں مر جائے تو پیدائش کے بعد اس بچے کا بھی نام رکھنا چاہیے اور غسل دے کر کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے ۔ البتہ اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
(قوله: وإلا يستهل غسل وسمي) شمل ما تم خلقه، ولا خلاف في غسله وما لم يتم، وفيه خلاف. والمختار أنه يغسل ويلف في خرقة، ولا يصلى عليه كما في المعراج والفتح والخانية والبزازية والظهيرية شرنبلالية۔۔۔۔۔ والخلاصة من أن المختار تغسيله بأنه سبق نظرهما إلى الذي تم خلقه۔۔۔۔۔ وذکر العلقمي في حدیث:”سموا أسقاطکم فإنھم فرطکم“۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، باب صلوٰۃ الجنازۃ، ج2، ص228)